ویل ڈن پاکستان مگر کب تک؟

28 September 2016

سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے اس کلین سویپ کا کریڈٹ کس کو دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کریڈٹ کیوں دیا جائے۔

پاکستان تینوں میچز میں بہت اچھا کھیلا، ویسٹ انڈیز تینوں میچز میں بہت برا کھیلا، حاصل جمع یہ کہ پاکستان جیت گیا مگر خسارہ یہ کہ اچھی کرکٹ دیکھنے کو نہ مل سکی۔

اچھی گیم ہو تو داد دینے میں بھی مزہ آتا ہے اور لینے میں بھی۔ بری گیم ہو تو جیت کا مزہ بھی کرکرا ہو جاتا ہے۔ میچ کانٹے دار ہو تو لڑ کر ہار جانے میں بھی مزہ آتا ہے۔

گراونڈ بدل گیا مگر نتیجہ نہ بدل سکا۔ ابو ظہبی کی وکٹ دوبئی کی وکٹ سے قدرے مختلف یوں تھی کہ باؤنس بہتر تھا، وکٹ پہ تھوڑی گھاس بھی تھی اور یہ آس بھی تھی کہ شاید ویسٹ انڈیز سیریز کی ہار کا غصہ نکالے لیکن عماد وسیم کے دوسرے، یعنی میچ کے تیسرے اوور میں ہی میچ ختم ہو گیا۔ ویسٹ انڈیز اتنا برا کھیلی کہ پاکستان کو انہیں ہرانے کے لیے کوئی خاص تگ و دو نہیں کرنا پڑی۔

عماد وسیم اس سیریز کے ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔ وہ نوجوان ہیں، باصلاحیت ہیں اور محنتی بھی ہیں۔ باولنگ میں ورائٹی البتہ کم دیکھنے کو ملی۔ ویسے تو جس طرح کی بیٹنگ ویسٹ انڈیز نے کی، انہیں ان سوئنگ کے سوا کسی ورائٹی کی ضرورت بھی نہیں پڑی لیکن ون ڈے سیریز میں صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔


حیران کن بات یہ ہے ٹی ٹوئنٹی کی چیمپین ٹیم توقعات کے برعکس اتنا برا کیوں کھیلی۔ وہ اپنے بورڈ سے ورلڈ کپ جتانے والے کوچ کی برطرفی کا بدلہ لے رہی تھی یا ورلڈ کپ فاتح کپتان ڈیرن سامی کی معزولی کا دکھ اسے لے ڈوبا؟

خوش گوار حیرت یہ بھی ہے کہ مختصر طرز کی کرکٹ میں گذشتہ پانچ سال سے بحران کا شکار پاکستان ٹیم اچانک ایک وننگ کمبینیشن کیسے بن گئی۔

یہ حیرت نہ ہوتی، یہ سوالات نہ ہوتے اگر تین میچوں میں سے کسی ایک میں بھی مقابلہ جوڑ کا ہوتا۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اپنی نوعیت کے سبب ہمیشہ ماہرین کے درمیان زیر بحث رہتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ٹی ٹوئنٹی نے کرکٹ میں سنسنی پیدا کی ہے، شائقین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیگ کرکٹ کو فروغ ملا ہے اور پلئیرز کے معاوضوں میں بہت بہتری آئی ہے۔


لیکن ٹی ٹوئنٹی میں وقت کم اور مقابلہ سخت ہوتا ہے اور گرنے والے کے پاس یہ موقع بہت کم ہوتا ہے کہ وہ حریف کو واپس گرانا تو کجا، خود دوبارہ اٹھ ہی سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے باوجود ہم وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان ٹیم ون ڈے میں بھی ایسا ہی پرفارم کر سکے گی کیونکہ سو اوورز میں نہ تو حریف کو گرانا اس قدر آسان ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ صرف پہلے ایک آدھ گھنٹے میں اچھا کھیل کر میچ جیت لیا جائے۔ ٹی ٹوئنٹی جیتنے کے لیے پانچ اچھے اوورز اور ایک اچھی پارٹنرشپ ہی کافی ثابت ہوتی ہے لیکن ون ڈے میں تو کبھی تیس اچھے اوورز اور تین پارٹنرشپس بھی کم پڑ جاتی ہیں۔

پاکستان ٹی ٹوئنٹی میں ایک اچھی الیون بن چکی ہے، ٹیسٹ میں پہلے ہی نمبر ون ہے لیکن ون ڈے میں ابھی شکوک و شبہات کے بادل چھٹے نہیں۔ ویسٹ انڈیز سے بادل نخواستہ یہ امید رکھتے ہیں کہ جیسن ہولڈر کی قیادت میں وہ بہتر پرفارمنس دیں گے تا کہ اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملے۔ ادھر دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا اظہر علی کی قیادت میں بھی یہ ٹیم ایسے ہی پرفارم کرے گی جیسے سرفراز کی قیادت میں کر رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ٹی ٹوئنٹی میں جھنڈے گاڑنے والی ٹیم ون ڈے میں بھی ایک وننگ یونٹ بن کر ابھرے گی؟

 Source. BBC Urdu

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz