ڈسپلن اور فٹنس حاصل کر لی تو دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرا سکتے ہیں، عامر سے متعلق انگلش میڈیا کا بیان غلط، ٹیم پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے: انضمام الحق

5 July 2016

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ انضمام الحق نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم کی فٹنس اور ڈسپلن پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں کیونکہ اگر یہ دو چیزیں حاصل ہو گئیں تو پھر دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرا سکتے ہیں۔ محمد عامر کو دورہ انگلینڈ میں ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لئے انہیں باﺅنڈری کے قریب نہ بھیجا جائے اور سرکل کے اندر ہی کھلایا جائے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ محمد عامر کو دورے سے پہلے دھمکیاں دینا بہت غلط ہے اور یہ سراسر ٹیم پر پریشر ڈالنے کی کوشش ہے۔ محمد عامرہوٹنگ کا نشانہ بن سکتا ہے اس لئے انہیں باﺅنڈری پر نہ کھڑا کیا جائے اور سرکل کے اندر ہی کھلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ٹیم کیلئے ڈسپلن بہت ضروری ہے اور اس پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جبکہ لڑکے کی بھی محنت کر رہے ہیں اور اسی طرح فٹنس بھی بہت ضروری ہے اور اگر یہ دونوں چیزیں حاصل کر لی گئیں تو دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرایا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انضمام الحق نے کہا کہ میرے پاس وہ والی نظریں نہیں کہ دیکھتے ہی بتا دوں کہ کون سا پلیئر کتنا سکور کرے گا۔ میری توجہ ڈسپلن، فٹنس اور کارکردگی پر ہے۔ بورڈ کی کوشش ہے کہ فٹنس کا دائرہ وسیع ہو جائے اور نئے لڑکوں کی فٹنس پہلے سے ہی بہتر ہو تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل دونوں کی پرفارمنس اور فٹنس ٹھیک تھی لیکن نظم و ضبط کی وجہ سے انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا اور اگر دونوں اس پر توجہ دیں تو بہت لمبی کرکٹ کھیل سکتے ہیں ۔

ڈسپلن کے معیار سے متعلق سوال کے جواب میں انضمام الحق نے کہا کہ ٹیم میں اتحاد، کپتان اور کوچ کی رپورٹ، دیگر افراد کی رپورٹ اور ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ رویہ کودیکھتے ہوئے ڈسپلن سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز میں جیتنے کے امکانات سے متعلق سوال کے جواب میں انضمام الحق نے کہا کہ انگلینڈ کو ہوم گراﺅنڈ کا فائدہ حاصل ہو گا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ بہت اچھا کھیل رہی ہے جبکہ ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم شارجہ، دبئی اور ابوظہبی میں ہی کھیلتے رہے ہیں۔ اگر پلیئرز دوسرے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں بھی کھیلتے تو شائد ان کی کارکردگی اتنی اچھی نہ ہوتی لیکن انہیں سیکھنے کا موقع ضرور ملتا۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz