'پاکستان کرکٹ کو عروج کیلئے 10 سال درکار'

17 June 2016

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر اور کرکٹ اکیڈمیز کے نومنتخب ڈائریکٹر مدثرنذر کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بالخصوص مختصر طرز کو اپنی پست صورت حال سے نکلنے میں دس سال درکار ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مدثر نذر کو حال ہی کرکٹ اکیڈمیز کا ڈائریکٹر مقرر کیا تھا۔

پی سی بی ہیڈ کوارٹرز لاہور میں اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران مدثر نذر کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کی سہولت کو صحیح استعمال نہیں کیا اور ہم اپنے ذرائع کو مضبوط کرنے سے قاصر رہے اس لیے دوبارہ کرکٹ کی قوت بننے کے لیے بڑا کام کرنا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ’میرے خیال میں پاکستان کرکٹ کو واپس صحیح راستے میں آنے کے لیے دس سال لگ جائیں گے’۔

ملک میں اکیڈمیوں کے جال بچھانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے تمام 16 ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشنز میں مختلف مراحل میں اکیڈمیاں بنائی جائیں گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے پی سی بی سے مشاورت جاری ہے جبکہ وہ دوماہ قبل اپنے طویل اور قلیل مدتی منصوبے بورڈ کے حوالے کرچکے ہیں۔

مدثر کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کو بہترین آل راؤنڈرز اور وکٹ کیپرز کی ضرورت ہے جس کے لیے کیمپ لگائے جائیں گے اور اگلے مرحلے میں اپنے کوچز کا اعلان کروں گا جو میرے ساتھ کام کریں گے’۔

آئی سی سی اکیڈمی میں ان کی ذمہ داریوں پر ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہاں پر سب کچھ کمرشل بنیادوں پر تھا اسی طرح نیشنل کرکٹ اکیڈمی بھی کمرشل بنیاد پر چلائی جاسکتی ہے لیکن یہ بہتر ہوگا کہ اگر ‘ہم محمد عامر کی طرح معیاری کرکٹرز پیدا کرسکیں’۔

‘اگر اکیڈمی عامر کی طرح کے چار معیاری کھلاڑیوں کو سامنے لانے میں کامیاب ہوئی تو اس مطلب ہوگا کہ اس نے اپنا کام پورا کیا جو اکیڈمی سے پیسے کمانے کے مقابلے میں زیادہ ضروری ہے’۔

ایک سوال پر مدثر نے کہا کہ اگر نیشنل کرکٹ اکیڈمی کو مستقل بنیادوں پر کام کرنے کی آزادی دی جائے تو یہ اپنے مقاصد پورے کرے گی جبکہ اس کے قیام سے اب تک پاکستان نے دو جونیئر ورلڈ کپ جیتے ہیں جس کا سہرا اکیڈمی کو ہی جاتا ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مشکل دورہ ہے لیکن پاکستان ٹیم حریف کو سری لنکا کے مقابلے میں بہتر طریقے سے نمٹ لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے پاس بہترین باؤلر ہیں اور اگر چاروں تجربہ کار بلے باز بہتر مجموعہ ترتیب دینے میں کامیاب ہوئے اور فیلڈنگ اچھی کی تو انگلینڈ میں میچز جیتنے کے امکانات روشن ہیں’۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz