مصباح اسپاٹ فکسنگ کا داغ دھونے کیلئے پرعزم

8 July 2016

لارڈز: پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف بہترین کارکردگی دکھانے پر زور دیتے ہوئے اسپاٹ فکسنگ کے داغ کو دھونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہناتھا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں کامیابی کی اہمیت سے واقف ہیں لیکن یہ ایک بڑا امتحان بھی ہے۔

پاکستان ٹیم 2010 میں اسپاٹ فکسنگ کے اسکینڈل کے بعد پہلی مرتبہ انگلینڈ کے دورے پر ہے تاہم گزشتہ 6 سالوں کے دوران دونوں ٹیموں نے متحدہ عرب امارات میں 2012 اور 2015 میں دو ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں جس میں پاکستان ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔

مصباح الحق نے انگلینڈ کے خلاف سیریز میں کامیابی کو 6 سال قبل لگے داغ کو دھونے کے لیے بہترین موقع قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے لیے لمبے عرصے بعد یہ ایک بڑا امتحان ہے لیکن مجھے بطور کپتان اور پوری ٹیم کو یہاں ان کنڈیشنز پر کارکردگی دکھانے کا اچھا موقع ہے’۔

پاکستان کے کامیاب ٹیسٹ کپتان کا کہنا تھا کہ ‘انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے دوروں میں ٹیم میں حقیقی طور پربہتری آتی ہے، میرے خیال میں 2010 کا دورہ مشکل تھا لیکن اظہر علی جیسے کھلاڑیوں نے مشکل کنڈیشن اور حالات میں اچھا کھیلا’۔

42 سالہ مصباح نے زور دیا کہ بلے بازوں کو معقول ہدف دینے کی ضرورت ہے تاکہ باؤلرز اس کا دفاع کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ اسکور بورڈ پر اچھا مجموعہ ترتیب دے سکے تو پاکستان کی باؤلنگ اچھی ہے اسی لیے ہمیں بیٹنگ یونٹ کے طورپر کھڑے ہونا پڑے گا اور انھیں اچھا ہدف دینا ہوگا’۔

پاکستان ٹیم کی باؤلنگ کو دنیا کے بہترین اٹیک کے طور پر مانا جاتا ہے جبکہ سمرسیٹ کے خلاف 6 سال بعد پہلے فرسٹ کلاس میچ میں محمد عامر اور لیگ اسپنر یاسر شاہ دونوں نے پابندی کے بعد بہترین واپسی کی تھی۔

عامر نے سمرسیٹ کے خلاف 4 جبکہ یاسر شاہ نے 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

مصباح الحق نے انٹرویو کے دوران تسلیم کیا کہ وہ محمد عامر کی اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا مکمل کرنے کےبعد واپسی کے حق میں نہیں تھے تاہم انھوں نے اصرار کیا وہ اب عامر کی بھرپور مدد کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح کے فیصلے آپ کے کنٹرول میں نہیں ہوتے تاہم سب سے اہم مداح اور ان کا ردعمل تھا جس کا انھوں نے اظہار کیا، وہ ان کی کھیل میں واپسی چاہتے تھے اور ہر کوئی انھیں دوبارہ کھیلتے دیکھنا چاہتا تھا اسی لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی کی حمایت سے فیصلہ کیا ‘۔

مصباح کا کہناتھا کہ ‘انھیں (عامرکو) پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہزاروں تماشائی ان کے حوالے سے کیا کہتے ہیں اور ان کے پاس کھیل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنے آپ کو ثابت کرنے کا بہترین موقع ہے’۔

‘میرے خیال میں ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور چار روزہ کرکٹ میں ایک خراب وکٹ پر اچھی کارکردگی رہی ہے اور انھوں نے بلے بازوں کو پریشان کرنے کے تمام حربے آزمائے ہیں لیکن انھیں مزید پختگی دکھانے کی ضرورت ہے’۔

پاکستانی کپتان نے ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ کے تنازعے کے بعد کھلاڑیوں نے متحد ہوکر دنیا میں ٹیم کی عزت بحال کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں ہم نے گزشتہ چھے سالوں میں بہترین کام کیا ہے جس کا سہرا کھلاڑیوں کو جاتا ہے’۔

پاکستان ٹیم 14 جولائی سے انگلینڈ کے خلاف سیریز کا باقاعدہ آغاز کررہی ہے جس میں 4 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوئنٹی کھیلا جائے گا جبکہ آئرلینڈ کے خلاف دو ون ڈے میچ بھی شیڈول کا حصہ ہیں۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz