پاکستان، ویسٹ انڈیز کو ڈھیر کرنے کیلئے پرعزم

23 September 2016

دبئی: پاکستان اور ویسٹ انڈیز آج تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں مدمقابل ہوں گے جہاں پاکستانی ٹیم عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے سیریز میں برتری کے حصول کیلئے پرعزم ہے۔

انگلینڈ کو واحد ٹی ٹوئنٹی میں نو وکٹ سے شکست دینے کے بعد پاکستانی ٹیم اچھی فارم میں ہے اور وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی کارکردگی کے اس سلسلے کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب عالمی چیمپیئن ویسٹ انڈین ٹیم اپنے مسائل پس پشت ڈال کر بہترین کھیل پیش کرنے کی خواہاں ہے۔

ویسٹ انڈین ٹیم نے عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز تو حاصل کر لیا لیکن بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر ٹیم سے باہر کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

پاکستان کے خلاف سیریز کیلئے اعلان کردہ ویسٹ انڈین اسکواڈ میں چھ وہ کھلاڑی شامل نہیں جو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیتنےوالی ٹیم کا حصہ تھے اور سب سے حیران کن اخراج کپتان ڈیرن سیمی کا ہے جنہیں ممکنہ طور پر چیمپیئن بننے کے بعد کیے گئے خطاب کے سبب برطرف کیا گیا۔

صرف یہی نہیں بلکہ ویسٹ انڈیز نے پہلے باؤلنگ کوچ کرٹلی ایمبروز اور پھر ہیڈ کوچ فل سمنز کو عہدے سے فارغ کردیا تھا۔

انگلینڈ کے خلاف لگاتار چار چھکے لگا کر ٹی کو یادگار انداز میں چیمپیئن بنوالے والے کارلوس بریتھ ویٹ کے سپرد ٹیم کی قیادت کر دی گئی لیکن یہ ٹیم عالمی شہرت یافتہ کرس گیل، آندرے رسل اور لینڈل سمنز جیسے کھلاڑیوں سے محروم ہے۔

ویسٹ انڈین ٹیم نے ہندوستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ میں ثابت کیا وہ بڑے ناموں سے محروم ہونے کے باوجود عمدہ کھیل پیش کر سکتے ہیں لیکن متحدہ عرب امارات کی سلو وکٹوں پر جارحانہ بیٹنگ کرنا اتنا آسان نہیں۔

ادھر پاکستان کے نئے کپتان سرفراز احمد نے امید ظاہر کی کہ ان کی ٹیم عالمی چیمپیئن سے خوفزدہ نہیں ہو گی اور عمدہ کھیل پیش کرے گی۔

سرفراز نے کہا کہا جب ہم نے انگلینڈ کو مانچسٹر میں ہرایا تھا تو یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ ورلڈ ٹی ٹوئنتی کی فائنلسٹ ٹیم ہے اور ہم یہاں بھی ایسا ہی کریں گے اور بہترین کھیل پیش کریں گے کیونکہ جو ٹیم میدان پر اچھا کھیل پیش کرتی ہے وہی ٹی ٹوئنٹی میچ کی فاتح ہوتی ہے۔

انہوں خبردار کیا کہ کرس گیل اور آندرے رسل کی عدم موجودگی میں بھی ویسٹ انڈین ٹیم خطرناک حریف ہے اور ٹی20 میچ محض بڑے ناموں کی بنیاد پر نہیں جیتے جاتے۔

ادھر شادی کے بعد محمد عامر نے اسکواڈ کو جوائن کر لیا ہے اور وہ پاکستانی باؤلنگ اٹیک کی قیادت کریں گے۔

میچ کیلئے پاکستانی ٹیم ایک تبدیلی یقینی ہے اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں سنچری سمیت سب سے زیادہ رنز بنانے والے عمر اکمل کی شمولیت یقینی ہے جنہیں ماضی میں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ٹیم سے نکال دیا گیا تھا۔

ادھر نئے ویسٹ انڈین کپتان کارلوس بریتھ ویٹ نے امید ظاہر کی کہ ان کی ٹیم متحدہ عرب امارات کے گرم موسم میں اپنی صلاحیتوں کا بہترین انداز میں مظاہرہ کرے گی۔

میچ کیلئے ویسٹ انڈین ٹیم کا انحصار سیمیول بدری اور سنیل نارائن کی جوڑی پر ہو گا جنہوں نے وارم اپ میچ میں پانچ وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کو 22 رنز سے فتح دلائی۔

پاکستان کا فتح کیلئے انحصار عماد وسیم اور شرجیل خان پر ہو گا جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف میچ میں فتح گر کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz