سٹارز کی کمی پاکستان کرکٹ کی تنزلی کی وجہ ہے : شاہد خان آفریدی

18 May 2016

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی کرکٹر شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان، وسیم اکرم اور وقاریونس کے دور میں پاکستان کرکٹ ٹیم 16 سٹار ہوتے تھے لیکن اب صرف 1 سے 2 سٹار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی لوگوں کی توقعات کے برخلاف ہے۔

جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر صرف باتیں اور کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ۔ پی سی بی میں بڑے بڑے ناموں نے 8 سے 10 لاکھ روپے تنخواہیں لیں اور کچھ بھی نہیں کیا جب انہیں نوکری مل جاتی ہے تو خاموش اور نوکری سے نکالا جاتا ہے تو ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر فضول باتیں شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم عمران خان، وسیم اکرم اور وقاریونس کے دور والی ٹیم نہیں ہے ، اس وقت ٹیم میں 15 سے 16 سٹار ہوتے تھے لیکن آج ایک آدھ سٹار کے ساتھ وہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ آج سکول کرکٹ ختم ہوگئی ہے جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ بہتر نہیں ہے ، آپ کو ہر گلی ، محلے سے ایک آدھ فرسٹ کلاس کرکٹر مل جائے گا حالانکہ پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا بہت ہی مشکل کام تھا ۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ کو اسی صورت میں بہتر کیا جاسکتا ہے جب ڈومیسٹک کرکٹ کا باقاعدہ نظام بنا کر اسے باقاعدہ طور پر چلنے دیا جائے اور سکولوں، کالجوں میں کرکٹ کو فروغ دیا جائے جبکہ سٹارز کو عزت دی جائے۔ اگر سٹارز کو عزت دی جائے گی تو ہر ماں کی خواہش ہوگی کہ اس کا بیٹا بھی کرکٹر بنے ، اسی صورت میں کرکٹ میں بہتری آسکتی ہے۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz