روس، انگلینڈ کا میچ ڈرا، شائقین میں جھڑپیں

12 June 2016

روس کے وزیلی برزوٹسکی کی جانب سے اختتامی لمحات میں کیے گئے اہم گول کی بدولت یورو کپ 2016 میں انگلینڈ اور روس کے درمیان میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعد ڈرا پر منتج ہوا۔

فرانس میں جاری یورو کپ میں ہفتے کو انگلینڈ اور روس کے درمیان مارسے میں اہم میچ کھیلا گیا جس کیلئے انگلینڈ کی ٹیم کو بجا طور پر فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا لیکن روس نے تمام تر قیاس آرائیوں کو یکسر بالائے طاق رکھتے ہوئے میچ کو ڈرا کردیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان میچ کے پہلے ہاف میں کوئی بھی ٹیم گول اسکور نہ کر سکی اور پہلا ہاف ڈرا پر ختم ہوا لیکن میچ کے 73ویں منٹ میں ایرک ڈیئر نے گیند کو گول میں پھینک کر اپنی ٹیم کو برتری دلا دی۔

روس کے کھلاڑی میچ کو برابر کرنے پر خوشی سے جشن منا رہے ہیں۔ رائٹرز

اس کے بعد روس کی ٹیم نے گول برابر کرنے کی متعدد کوششیں لیکن ان کی یہ تمام کوششیں کئی دیر تک رائیگاں رہیں اور میچ میں انگلینڈ کی جیت کے امکانات واضح ہو گئے۔

تاہم انجری ٹائم میں روس کے وزیلی برزوٹسکی کی جانب سے کیے گئے اہم گول کی بدولت روس نے یہ اہم مقابلہ برابر کردیا۔

شائقین میں جھڑپیں

ادھر میچ کے بعد دونوں ملکوں کے شائقین کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہو گئیں جہاں میچ برابر کرنے پر فتح کے جذبات سے مغلوب روسی شائقین انگلینڈ کو حامیوں و زدوکوب کرتے نظر آئے۔

ان جھڑپوں کا آغاز دراصل تین دن قبل فرانس کے ساحلی شہر میں واقع پب کے باہر مقامی نوجوانوں اور انگلش شائقین کے درمیان جھگڑے سے ہوا تھا جو ہفتے کو بدترین شکل اختیار کر گیا۔

دونوں ملکوں کے سینکڑوں شائقین سڑکوں پر کرسیاں اٹھائے ایک دوسرے پر پھینکتے اور مقامی پولیس پولیس سے جھگڑتے نظر آئے۔

فرانس کے جنوبی شہر کی پولیس کے سربراپ لورینٹ نونیز نے کہا کہ ان جھڑپوں کے درمیان ایک انگلش تماشائی شدید زخمی ہوا جسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی 34 افراد زخمی ہوئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایک شخص کو لوہے کے سریے سے بری طرح پیٹا گیا اور ممکنہ طور پر اس کے سر کے گرد وار کیے گئے جس کے بعد اسے ہنگامی بنیادوں پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اس جھڑپ کا آغاز میچ کے 1-1 سے اختتام پر ہوا جہاں روسی تماشائی انگلش شائقین پر دھاوا بولتے ہوئے ان سے دست و گریباں ہوئے اور اس کے بعد ایک نہ ختم ہونے والے جھگڑے کا آغاز ہوا۔

ان جھڑپوں سے بچنے کیلئے شائقین حفاظتی لوہے کی جالی کو پھلانگ کر جان بچا کر بھاگتے ہوئے بھی نظر آئے۔

لوگوں اپنی جان بچانے کیلئے لوہے کی حفاظتی جالی سے کود رہے ہیں۔

یہ جھڑپیں 1998 میں فرانس میں ہونے والے ورلڈ کپ کے دوراب پیش آنے والے حادثے سے قدرے مشترک ہے جب مارسے میں انگلینڈ اور تیونس کے درمیان میچ کے بعد شائقین کے درمیان جھگڑا ہو گیا تھا۔

انگلینڈ کے شائقین نے اس جھگڑے کا الزام روسی شائقین پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہم پر دھاوا بول دیا تھا۔

ایک انگلش شائق نے نام ظاہر ہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ تقریباً 100 روسی تھے۔ وہ نجانے کہاں سے نکل اور کچھ پھینکا گیا، بس پھر کیا تھا، اس کے بعد ایک جھگڑا شروع ہو گیا۔

یورپ کی فٹبال کی گورننگ باڈی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوئیفا مارسے میں پیش آںے والے حادثے کی مذمت کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا جو لوگ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں ان کی فٹبال میں کوئی جگہ نہیں۔

یہ رواں ٹورنامنٹ کے دوران تیسرا موقع ہے کہ انگلینڈ کے شائقین کو بدنظمی یا جھگڑا کرنے پر پولیس کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم روس کے وزیر کھیل نے کہا کہ مارسے میں روسی شائقین کے اس بُرے رویے پر یوئیفا کی جانب سے روس کی فٹبال یونین پر جرمانہ عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوئیفا کی جانب سے ہم پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، میں سمجھ سکتا ہوں کیونکہ اپنے غلط رویے کا مظاہرہ کیا۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz