کارکردگی میں تسلسل کو برقرار رکھنا ہو گا، اظہر

06 October 2016

ابوظہبی: پاکستان کی ایک روزہ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ تیزی سے ابھرتی پاکستانی کی ایک روزہ ٹیم 2019 ورلڈ کپ کیلئے براہ راست کوالیفائی کرنے کیلئے تیار ہے۔

پاکستان ابو ظہبی میں کھیلے گئے تیسرے ایک روزہ میچ میں ویسٹ انڈیز کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 136 رنز سے شکست دے کر 3-0 سے کلین سوئپ کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی درجہ بندی میں بھی آٹھویں نمبر پر بھی پہنچ گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ویسٹ انڈین ٹیم نویں نمبر پر پہنچ گئی ہے اور اسے ورلڈ کپ میں براہ راست رسائی کا چیلنج درپیش ہے جہاں 30 ستمبر تک میزبان انگلینڈ سمیت عالمی درجہ بندی کی صف اول کی آٹھ ٹیمیں براہ راست حاصل کر لیں گی۔

آخری چار ٹیمیں چھ ایسوسی ایٹ ٹیموں کے ساتھ مل کر کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلیں گی اور دو بہترین ٹیمیں 2019 ورلڈ کپ میں رسائی حاصل کریں گے۔

اظہر علی نے کہا کہ ورلڈ کپ میں براہ رسائی کیلئے ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح بہت اہم تھی، یہ مزید چیلنج کے آغاز کا پیش خیمہ ہے، ہمیں کارکردگی کے اس تسلسل کو برقرار رکھنا ہو گا۔

2015 ورلڈ کپ کے بعد بنگلہ دیش کے ہاتھوں 3-0 سے کلین سوئپ شکست کے بعد پاکستانی ٹیم عالمی درجہ بندی میں نویں نمبر پر پہنچ گئی تھی جبکہاسے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف بھی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اظہر علی نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں فتح کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کا اعتماد بہت بڑھ چکا ہے اور ہمارے پاس ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے عمدہ کھیل پیش کیا۔

کپتان نے سیریز میں لگاتار تین سنچریاں بنانے والے بابر اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بابر نے عمدہ کھیل پیش کیا اور یکے بعد دیگرے سنچریاں اسکور کر کے عالمی معیار کی کارکردگی دکھائی۔

بابر اعظم نے تین میچوں 120، 123 اور 117 رن کی باریاں کھیل کر لگاتار تین سنچریاں بنانے کا ظہیر عباس اور سعید انور کا ریکارڈ برابر کرنے کے ساتھ ساتھ تین میچوں کی سیریز میں سب سے زیادہ 360 رنز اسکور کرنے عالمی ریکارڈ بھی بنا دیا۔

اظہر علی نے ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری کا سہرا کوچ مکی آرتھر کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ آرتھر کا بہت اہم کردار ہے جبکہ پوری ٹیم، سلیکشن کمیٹی، فیلڈنگ کوچ اور بیٹنگ کوچ نے بھی کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz