ڈھیٹ بلے بازوں کو’چلتا‘ کرنے والا نیا آلہ

22 April 2016

کرکٹ میں بلے بازوں کے آوٹ یا ناٹ آؤٹ ہونے کا فیصلہ کرنے میں امپائروں کی مدد کرنے والا آلے ’ہاک آئی‘ کے مُوجد نے ایک نئی ٹیکنیک دریافت کی ہے جس کے بعد کلب کی سطح کے بالروں کو بھی اس الجھن سے نجات مل جائے گی کہ بیٹسمین ابھی تک کریز پر کھڑا کیوں ہے۔

’عقابی آنکھ‘ کے خالق مسٹر پال ہاکنز کے مطابق وہ ایک ایسا سادہ اور حساس آلہ یا سینسر بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو بلے اور گیند کے درمیان بال برابر رگڑ کو بھی پکڑ لےگا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ آلہ کلب کی سطح کے میچوں میں خوب استعمال ہو گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ سینسر حجم میں ایک چھوٹے سکّے کے برابر ہے جسے آسانی سے بلے پر لگا کر امپائر کے سمارٹ فون پر لگی ایک ایپلیکیشن کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔

ایپ لگے ہوئے سمارٹ فون کو امپائر اپنے کوٹ کے ساتھ لگا سکتے ہیں اور یوں وہ سمارٹ فون کے کیمرے کے ذریعے ہر بال کو ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ یوں انھیں ایل بی ڈبلیو کی اپیلوں پر فوری فیصلہ کرنے کی سہولت حاصل ہو جائے گی۔

پال ہاکنز نے برطانوی اخبار ’ٹائمز‘ کو بتایا کہ وہ اس نئے آلے کو جلد ہی عام صارفین کے لیے مہیا کر دیں گے۔ اگرچہ اس سینسر کی قیمت 25 پاؤنڈ (36 ڈالر) ہے، تاہم پال کو امید ہے کہ وہ اسے اس سے کم قیمت پر فروخت کر پائیں گے۔

یاد رہے کہ سنہ 2000 میں متعارف کرائے جانے والے ’ہاک آئی ٹریکنگ سسٹم‘ میں وہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی جو میزائل کی سمت برقرار رکھنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے امپائر کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر بال پیڈ پر نہ لگتی تو وہ کدھر جاتی، وکٹوں میں جا لگتی یا نہیں۔

بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں امپائر کے فیصلوں پر نظر ثانی کے لیے جو نظام (ڈسیژن ریویو سسٹم) استعمال کیا جاتا ہے اس کی بنیاد اسی ہاک ہائی نظام پر رکھی گئی تھی۔

ڈی آر ایس میں ہاک آئی کے علاوہ ’ہاٹ سپاٹ‘ اور ’سنِکو‘ جیسی مہنگی ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جاتی ہے جس کے ذریعے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ آیا بال واقعی بیٹ کے کنارے سے لگی تھی یا نہیں۔

اس کے برعکس کلب کی سطح پر اور دیگر دوستانہ میچوں میں عموماً بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے کسی کھلاڑی کو امپائر بنا دیا جاتا ہے، اور ان میچوں میں وکٹوں کے پیچھے کیچ اور ایل بی ڈبلیو کے فیصلوں پر جھگڑے معمول کی بات ہے۔

کئی دیگر ممالک کی طرح انگلینڈ میں بھی کرکٹ کے میدان میں اب بھی شریفانہ (جینٹل مین) رویے کی توقع کی جاتی ہے اور اکثر بلے بازوں سے یہی کہا جاتا ہے کہ اگر بال بلے کو چُھو کر جاتی ہے تو شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ امپائر کا انتظار کیے بغیر خود ہی پویلین کی جانب ’چلنا‘ شروع کر دیں۔

لیکن ہر بلے باز اس توقع پر پورا نہیں اترتا اور کئی بیٹسمین اس بات پر اسرار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بال بیٹ کو چھُو کر نہیں گئی۔

ہاکنز کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کرکٹ میں نئی ٹیکنالوجی کے میدان میں ڈٹے رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے نئے سینسر کا خیال گذشتہ برس اس وقت آیا تھا جو وہ برطانیہ کی ہیمشائر کاؤنٹی میں ایک کلب میچ کھیل رہے تھے۔

کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بلے باز خود سے وکٹ نہیں چھوڑتے، لیکن اس دن مجھے یہ دیکھ کر بہت غضہ آیا جب تمام فیلڈر چیخ رہے تھے کہ بال بلے کو چھو کر وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں گئی ہے، مگر بلے باز کے کان پر جوں نہیں رینگی، بلکہ وہ بولا ’ مجھے پتا ہے کہ سنِک ہوئی ہے، آپ لوگوں کو بھی پتا ہے کہ سنک ہوئی ہے۔ تو کیا ہوا؟ امپائر نے تو مجھے آؤٹ نہیں دیا۔‘

ہاکنز کےبقول ان دنوں بہت سے بیٹسمین یہی حرکت کرتے ہیں اور خود وکٹ نہیں چھوڑتے۔ ’آخر کار اس دن ہم نے اُس بلے باز کو آؤٹ کر لیا تھا، لیکن اس واقعے نے میرا سارا دن خراب کر دیا۔‘

Source . BBC Urdu

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz