ٹیسٹ کے شیر، آخر ون ڈے میں ڈھیر کیوں؟

9 September 2016

کراچی: ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک لیکن ایک روزہ کرکٹ میں نویں نمبر پر پاکستان کی موجودگی کھیل کے مختلف فارمیٹس میں کامیابی کیلئے درکار صلاحیتوں کے بڑھتے ہوئے فرق کی عکاسی کرتا ہے۔

غیر مستقل مزاجی کیلئے مشہور پاکستانی ٹیم تسلسل کے ساتھ سفید وردی میں عمدہ کھیل پیش کر رہی ہے لیکن عمومی طور پر ‘پجاموں’ کے نام سے مشہور ایک روزہ کرکٹ کی رنگ برنگی کٹ میں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے جبکہ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بھی وہ ساتویں نمبر پر موجود ہیں۔

انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز میں 4-1 سے بدترین شکست کھانے سے قبل گزشتہ ماہ میزبان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں عمدہ کھیل کی بدولت 2-2 سے برابری کے ساتھ پاکستان نے عالمی نمبر ایک بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم فاسٹ باؤلر وسیم اکرم نے کہا کہ جس طرح دیگر ٹیموں نے اپنی بیٹنگ کو تبدیل کیا ہے اس کے لحاظ سے یہ تبدیلی ‘ناگزیر’ ہے۔

گزشتہ سال ہونے والے عالمی کپ کے پہلے راؤنڈ میں باہر ہونے والی انگلش ٹیم نے اپنی ٹیم اور مینجمنٹ سمیت بورڈ میں اہم تبدیلیاں کیں جس کے نتیجے میں وہ ورلڈ کپ سے اب تک سب سے بہترین کھیل پیش کرنے والی ٹیم ہے جس نے پاکستان کے خلاف تیسرے ایک روزہ میچ میں 444 رنز کا عالمی ریکارڈ بنایا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ ہم محدود اوورز کی کرکٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو نہیں ڈھال سکے، دنیا کی دیگر ٹیمیں بہت تیزی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں ۔۔۔ انگلینڈ کو ہی دیکھیں کہ ورلڈ کپ 2015 کے بعد انہوں نے کس طرح خود کو تبدیل کیا لیکن ہم کافی نیچے جا چکے ہیں۔

‘ٹیسٹ کرکٹ میں ہمارا اسکواڈ متوازن ہے لہٰذا ہم اچھے نتائج دے رہے ہیں لیکن محدود اوور کی کرکٹ میں ہمارے پاس مصباح الحق، شاہد آفریدی اور سعید اجمل کے متبادل نہیں تھے’۔

گزشتہ سال ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے ساتھ ہی شاہد آفریدی اور مصباح الحق نے ایک روزہ کرکٹ کو الوداع کہہ دیا تھا۔

پاکستان کو 1992 کے ورلڈ کپ کی تاریخی فتح سے ہمکنار کرانے والے سابق کپتان عمران خان نے کہا کہ اس کا حل شاید یہی ہے کہ 42 سالہ مصباح ایک روزہ کرکٹ میں واپس آئیں۔

‘ایک کھلاڑی جو ٹیسٹ کرکٹ میں اتنا کامیاب ہے وہ ایک روزہ کرکٹ کھیلنا جاری کیوں نہیں رکھ سکتا، اگر انہوں نے پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ایک بنایا ہے تو وہ ایک روزہ کرکٹ میں بھی ٹیم کو بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں’۔

مستقل تبدیلیاں

عمران خان کا مشورہ صحیح ہے یا غلط، یہ امر قابل بحث ہے۔ مصباح کو 2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا اور ایک سال بعد ایک روزہ ٹیم کی باگ ڈور سونپی گئی۔

اگر ٹیسٹ پاکستانی ٹیم کی فتوحات کا سہرا ان کے سر جاتا ہے تو ایک روزہ کرکٹ میں ٹیم کی بدترین کارکردگی کی ذمے داری بھی جزوی طور پر ان کے ہی کاندھوں پر عائد ہوتی ہے۔

بحیثیت ایک روزہ کپتان ان کے کیریئر کا آغاز بھی عمدہ رہا جہاں سعید اجمل اور فاست باؤلر جندی خان کی عمدہ باؤلنگ کی بدولت گرین شرٹس نے 2013 میں سات سیریز میں کامیابی حاصل کی جس میں ہندوستان اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیموں کے خلاف فتوحات بھی شامل ہیں۔

تاہم مشکوک باؤلنگ ایکشن کے سبب لگنے والی پابندی کے بعد اجمل نے جب اپنا ایکشن تبدیل کیا ت ان کی باؤلنگ میں پہلی جیسی کاٹ باقی نہ رہی جبکہ جنید خان بھی انجری کی وجہ ٹیم سے باہر ہوئے اور پھر فارم میں نہ آ سکے۔

صورتحال اس حد تک خراب ہو گئی کہ قومی ٹیم 2014 میں ایک بھی ون ڈے سیریز نہ جیت سکی اور 2015 میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور جب مصباح کی جگہ اظہر علی کو ایک روزہ ٹیم کا کپتان بنایا گیا تو پاکستان کو بنگہ دیش کے خلاف 3-0 سے وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔

سعید اجمل کے جانے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کو یاسر شاہ کی شکل میں ایک اور میچ ونر اسپنر مل گیا جنہوں نے آسٹریلیا، انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف سیریز میں حاصل ہونے والی فتوحات میں بجا طور پر مرکزی کردار ادا کیا اور پھر انگلش سرزمین پر لارڈز ٹیسٹ میں دس اور اوول میں پانچ وکٹیں لے کر پاکستان کے عالمی نمبر ایک بننے کی راہ ہموار کی۔

وسیم اکرم نے ایک روزہ ٹیم میں تواتر کے ساتھ تبدیلیوں کو بھی ناکامیوں کی وجہ قرار دیا جہاں گزشتہ چار سال کے دوران 21 نئے کھلاڑیوں کو آزمایا جا چکا ہے۔

وسیم اکرم نے گزشتہ چار سال کے دوران اوپننگ کی 34 جوڑیوں کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایک کھلاڑی کو 10 سے 12 میچوں کیلئے برقرار رکھتے ہوئے صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن ہم نے حال میں ایسا نہیں کیا۔

باؤنڈری پار کرنے کی صلاحیت

ایک اور اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ اس تباہ کن معیار کے مطابق نہیں ہے جس کی بناید پر ڈیوڈ وارنر، کرس گیل، اے بی ڈی ویلیئرز اور ویرات کوہلی ڈال چکے ہیں۔

پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ اسد شفیق اور اظہر علی جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو ٹیسٹ کرکٹ میں تو ٹیم نیا پار لگا دیتے ہیں لیکن محدود اوور کی کرکٹ میں درکار جارح مزاج بلے بازی سے عاری نظر آتے ہیں۔

بیٹنگ میں باصلاحیت بلے بازوں کی کمی کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ ہے جس میں بمشکل ہی بڑے مجموعے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ رواں سال ہونے والے پاکستان ون ڈے کپ کے گیارہ میچوں میں صرف چھ بار 300 یا اس سے زائد رنز بنائے جا سکے۔

قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا کہ ہمیں نئے کھلاڑی پیدا کرنا پوں گے۔ اب ایک روزہ کرکٹ میں ایسے بلے بازوں کی ضرورت ہے جو باؤنڈری کو تسلسل سے پار کرنے کے ساتھ ساتھ باؤلر کی مختلف طرز کی باؤلنگ کو بھی سمجھ سکے۔

اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مقابلہ وقت سے ہے جہاں اسے ورلڈ کپ 2019 تک براہ راست رسائی اور کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کی خفت سے بچنے کیلئے آئندہ سال ستمبر کے آخر سے قبل ہی عالمی درجہ بندی میں آٹھویں پوزیشن حاصل کرنی ہے۔

فی الحال تو حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 90 کی دہائی کی کرکٹ کھیل رہا ہے اور انہیں 21ویں صدی تک لانے کیلئے شرجیل خان اور سرفراز احمد جیسے چند مزید جارح مزاج کھلاڑیوں کی ضرورت ہے۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz