پاکستان انگلینڈ کے ہاتھوں کلین سوئپ سے بچ گیا

4 September 2016

کارڈف: پاکستان نے سیریز کے پانچویں اور آخری ایک روزہ میچ میں انگلینڈ کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر کلین سوئپ سے خود کو بچالیا اور سیریز کا اختتام 4-1 پر ہوا۔

کارڈف میں کھیلے جا رہے سیریز کے آخری میچ میں انگلینڈ نے جیت کے لیے پاکستان کو 303 رنز کا ہدف دیا تھا جسے گرین شرٹس نے چھ وکٹ کے نقصان پر 49 ویں اوور میں حاصل کرلیا۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پہلی وکٹ 22 رنز پر اس وقت گر گئی جب شرجیل خان 10 رنز پر کرس ووکس کا شکار ہوگئے، جس کے بعد اظہر علی اور بابر اعظم نے 54 رنز کی شراکت قائم کی۔

بابر اعظم 76 کے مجموعی اسکور پر مارک ووڈ کی گیند پر بولڈ ہوگئے، انہوں نے 31 رنز بنائے، جس کے فوری بعد اظہر علی بھی مارک ووڈ کا شکار بن گئے۔

اس کے بعد شعیب ملک اور سرفراز احمد نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 163 رنز کی شراکت قائم کی جس کا اختتام 240 کے مجموعی اسکور پر وکٹ کیپر بلے باز کے آؤٹ ہونے پر ہوا۔

سرفراز نے 90 رنز کی شاندار اننگ کھیلی جبکہ شعیب ملک 77 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

شعیب ملک 256 جبکہ محمد نواز 266 کے مجموعی اسکور پر پویلین واپس گئے مگر اس کے بعد محمد رضوان اور عماد وسیم نے 38 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کرکے پاکستان کو جیت دلوا دی۔

محمد رضوان 34 جبکہ عماد وسیم 16 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

بہترین بلے بازی پر سرفراز احمد کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

اس سے قبل باؤلنگ کیلئے سازگار وکٹ پر پہلے انگلینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

سیریز میں 4-0 کے خسارے سے دوچار پاکستانی ٹیم کو کلین سوئپ سے بچنے کا چیلنج درپیش تھا۔

انگلش اوپنرز نے پاکستانی باؤلرز کی غیرمعیار باؤلنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جارحانہ انداز میں اننگ کا آغاز کیا لیکن پانچویں اوور میں ایلکس ہیلز 37 کے مجموعی اسکور پر عامر کو وکٹ دے بیٹھے۔

وکٹ گرنے کے باوجود رنز بننے کی رفتار کم نہ ہوئی تاہم 64 کے اسکور پر جو روٹ بھی حسن کی گیند کو ڈرائیو کرنے کی کوشش میں وکٹ گنوا بیٹھے۔

جیسن رائے نے دوسرے اینڈ سے جارحانہ بلے بازی جاری رکھی تاہم ایک بار پھر ساتھی کھلاڑی انہیں داغ مفارقت دے گئے، آئن مورگن دس رنز بنانے کے بعد عماد وسیم کا شکار بنے۔

اس کے بعد رائے اور اسٹوکس نے ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوتھی وکٹ کیلئے 72 رنز جوڑ کر اپنی ٹیم کو بحرانی صورتحال سے نکالا، رائے وکٹ پر مکمل سیٹ اور سنچری کی جانب گامزن نظر آتے تھے لیکن محمد عامر نے ان کی اننگ کا 87 رنز پر خاتمہ کردیا۔

اس کے بعد اسٹوکس کا ساتھ نبھانے جونی بیئراسٹو پہنچے اور دونوں کھلاڑیوں نے اپنی ٹیم کی ڈبل سنچری مکمل کراتے ہوئے مزید 55 رنز جوڑے تاہم 219 کے اسکور پر بیئراسٹو پویلین لوٹ گئے۔

انگلش بلے باز جو روٹ کے باؤلڈ ہونے کا منظر۔ فوٹو اے ایف پی
انگلش بلے باز جو روٹ کے باؤلڈ ہونے کا منظر۔ فوٹو اے ایف پی

اسٹوکس نے دوسرے اینڈ سے عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کےساتھ ساتھ اسکور کو 258 تک پہنچایا لیکن اسی اسکور پر ان کی ہمت جواب دے گئی، وہ 75 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اس موقع پر انگلش ٹیم یکے بعد دیگرے وکٹیں گنوانے کے سبب رنز بنانے کی رفتار برقرار نہ رکھ سکی۔

کرس ووکس، لیام ڈاسن اور ڈیوڈ ولی بھی کچھ خاطر خواہ کارکردگی دکھائے بغیر ہی پویلین لوٹ گئے۔

انگلینڈ نے پاکستان کو میچ میں فتح اور سیریز میں کلین سوئپ کی شکست سے بچنے کیلئے 303 رنز کا ہدف دیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے حسن علی نے چار جبکہ محمد عامر نے تین وکٹیں لیں۔

اس سے قبل پاکستان نے میچ کیلئے ٹیم میں دو تبدیلیاں کرتے ہوئے سمیع اسلم کی جگہ شعیب ملک اور زخمی محمد عرفان کی جگہ محمد عامر کو فائنل الیون کا حصہ بنایا۔

دوسری جانب انگلینڈ نے بھی ٹیم میں تین تبدیلیاں کرتے ہوئے عادل راشد، معین علی اور لیام پلنکٹ کو آرام کا موقع فراہم کرتے ہوئے لیام ڈاسن، کرس ووکس اور مارک وُڈ کو کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz