پاکستان نے دورہ انگلینڈ کا اچھا آغاز کیا:یونس

4 July 2016

ٹاؤنٹن: پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز یونس خان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کا دورہ کرنے والی ہر ٹیم میزبان باؤلرز کے خلاف مشکلات کا شکار رہی ہے لیکن پاکستانی بلے بازوں نے پہلی دفعہ دورہ کا اچھا آغاز کیا ہے اور ہم اس کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔

پاکستان ٹیم نے سمر سیٹ کے خلاف دورے کے پہلے آفیشل میچ کے پہلے روزیونس خان کے 99 رنز کی بدولت 5 وکٹوں کے نقصان پر 324 رنز بنا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

ٹاؤنٹن میں کھیلے جارہے میچ میں کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، اوپنر محمد حفیظ اور شان مسعود نے پہلی وکٹ پر 44 رنز بنائے تاہم حفیظ 20 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

شان مسعود نے سست روی سے بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 62 رنز بنا ئے اور اظہرعلی 26 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

کپتان مصباح الحق کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے تو پاکستان کا اسکور 4 وکٹوں پر 132 رنز تھا تاہم ایسے موقع پر اسد شفیق نے یونس خان کا ساتھ دیا اور دونوں بلے بازوں نے اپنی نصف سنچریاں مکمل کرتے ہوئے اسکور کو 311 رنز تک پہنچا دیا۔

یونس خان پہلے دن کے اختتام پر 99 رنز بنا کر کریز پر کھڑے تھے جبکہ اسد شفیق 80 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے تاہم ٹی ٹوئنٹی کپتان سرفراز احمد ان کے ساتھ موجود تھے اور پاکستان کا اسکور 234 رنز تھا۔

یونس خان کا پہلے روز کے کھیل کے بعد پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ’جب آپ اچھا آغاز کرتے ہیں تو ہمیشہ اچھا لگتا ہے ، ہم خوش قسمت ہیں کہ جلد انگلینڈ آئے اور ایک اچھا ٹریننگ کیمپ ملا اور ساؤتھمپٹن میں سہولیات زبردست تھیں’۔

پاکستان ٹیم نے دورہ انگلینڈ سے قبل کاکول میں فوجی ٹرینر کی نگرانی میں ایک مشکل فٹنس ٹریننگ کی تھی جس کے بعد لاہور میں دورے کے پیش نظر بیٹنگ، فیلڈنگ اور باؤلنگ ٹریننگ کی گئی۔

قومی ٹیم انگلینڈ کی کنڈیشنز سے ہم آہنگی کے لیے دورے کے باقاعدہ آغاز سے ڈیڑھ ماہ سے بھی زائد عرصہ قبل انگلینڈ پہنچی اور ہمپشائر میں ابتدائی طورپر کیمپ لگایا تھا جہاں ٹیم نے چار روزہ میچ کھیلا تھا۔

پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں ریکارڈ رنز بنانے والے بلے باز کا کہنا تھا کہ ‘ہر کوئی جانتا ہے کہ میں اپنے خیالات اور تجربات کو اسد شفیق، اظہرعلی اور سرفراز جیسے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ اظہار خیال کرتا ہوں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ کھلاڑی مجھے دیکھتے اور میری بات مانتے ہیں جو پاکستان کے لیے نیک شگون ہے’۔

2010 میں دورہ انگلینڈ میں اسپاٹ فکسنگ کے بعد پانچ سال تک کرکٹ سے باہر ہونے والے محمد عامر کی واپسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کو محمد عامر کی جانب سے بہتر باؤلنگ اور اچھے کردار دکھانے کی ضرورت ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘عامر نے اس موقع کے لیے طویل انتظار کیا اور اچھی طرح تیاری کی ہے اور اگر وہ اچھی باؤلنگ کرے اور پاکستان میچوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو ہمیں خوشی ہوگی’۔

پاکستان ٹیم کے دورہ انگلینڈ میں پہلے آفیشل میچ کے حوالے سے یونس کا کہنا تھا کہ ‘اکثر بلے بازوں کو درمیان میں بیٹنگ کے لیے 50 سے 60 گیندیں ملی جو ہمارے لیے اچھی بات ہے اور اگر صبح کے پہلے ایک سے ڈیڑھ سیشن بیٹنگ کرسکے تو ہمارے لیے اچھا ہوگا’۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میری کارکردگی سے میرے ملک اور ٹیم خوش ہوتو مجھے بڑی خوشی ہوگی۔

پاکستانی ٹیم اس کے بعد آٹھ سے 10 جولائی تک سسیکس کے خلاف بھی ٹور میچ کھیلے گی جس کے بعد 14 جولائی سے ٹیسٹ سیریز کا آغاز ہو گا۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz