پاکستان کے کئی سیاستدان، تاجر، صنعتکار بیرون ملک کمپنیوں کے مالک نکلے

Monday 4 April 2016

اسلام آباد (ویب ڈیسک) خفیہ دستاویزات کا خزانہ ہاتھ لگنے سے انتہائی رازداری سے کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں میں ملوث پاکستان سمیت دنیا کے متعدد معروف شخصیات کے نام آشکار ہوئے ہیں جس میں کئی ملکوں سیاستدانوں سمیت کاروباری شخصیات، بینکرز اور ہائیکورٹ کے حاضر اور ریٹائرڈ جج بھی شامل ہیں۔پاکستانی شخصیات میں بے نظیر بھٹو، مریم نواز،حسین ، حسن نواز، جاوید پاشا، رحمان ملک ،چوہدری اور سیف اللہ برادران بھی شامل ہیں جبکہ نوازو شہبازشریف کی براہ راست کسی کمپنی کی ملکیت نہیں تاہم فہرست میں نام شامل ہیں اور بتایاگیاہے کہ شریف خاندان کے ان لوگوں نے لندن کے ہائیڈ پارک کے علاقے میں چھ پراپرٹیز خریدیں ، جوکہ لندن کا مہنگا ترین علاقہ ہے ،  برٹش ورجن آئی لینڈ میں چارکمپنیز رجسٹرڈ کرائیں اور  انہی کمپنیوں کے ذریعے برطانیہ کے پوش علاقے  میں چھ مہنگی ترین پراپرٹیز خریدیں ، کہاجا رہاہے کہ خرچ ہونیوالاپیسہ کرپشن کرکے اکٹھا کیاگیا تھا اورٹیکس سے بچنے کے لیے ان کمپنیوں کا سہار ا لیا۔ آئس لینڈ، برطانیہ سمیت غیرملکی سربراہان ، شہنشاہ ، امیتابھ ایشوریہ خاندان اور جیکی چن بھی کمپنیوں کے مالک نکلے,ایسے لوگ کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے ایسی کمپنیوں کا سہار ا لیتے ہیں اور ایسی کمپنیوں کی تعداد دو لاکھ چودہ ہزار کے قریب ہے  ۔

تفصیلات کے مطابق دنیا میں دولت بھیجنے کے قانونی طریقے بھی ہیں اور ہمارا یہ دعویٰ نہیں کہ یہ سب کام غیر قانونی ہے۔ آئی سی آئی جے نے 76 ممالک کی 100 میڈیا تنظیموں کے ساتھ ان دستاویزات کا تبادلہ کیا، جو کہ جرمن اخبار کو کسی نے فراہم کئے تھے، ان خفیہ فائلوں کی تعداد 1 کروڑ 15 لاکھ تھی، جس میں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان سے لے کر وزیراعلیٰ پنجاب کے رشتے داروں تک، بینظیر بھٹو، جاوید پاشا، سینیٹر رحمان ملک سے سینیٹر عثمان سیف اللہ کا خاندان، ق لیگ کے چوہدری برادران کےر شتے دار وسیم گلزار، زین سکھیرا (جو کہ حج سکینڈل میں سابق وزیراعظم گیلانی کے بیٹے کے ساتھ شریک ملزم ہے) کے نام موجود ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ہوٹلوں کے کاروبار سے منسلک صدرالدین ہاشوانی، ملک ریاض کے بیٹے، حسن داﺅد کے خاندان، سفائرٹیکسٹائل مل کے مالکان عبداللہ خاندان، لکی ٹیکسٹائلکے گل محمد طبا، مسعود ٹیکسٹائلز کے شاہد نذیر، ذوالفقار علی لاکھانی سے ذوالفقار پراچہ، بار ایسوسی ایشن کے ارکان، لاہور ہائیکورٹ کے جج فرخ عرفان اور ریٹائرڈ جج ملک قیوم نے بھی اپنی ’بچت‘ کو محفوظ رکھنے کیلئے غیر ملکی کمپنی کا استعمال کرتے ہوئے اسے یو ایس بی بینک میں جمع کرایا اور جائیدادیں خریدیں۔ ہلٹن فارما کے مالکان شہباز یاسین ملک نے سوئس بینک اکاﺅنٹ کے لئے کمپنی کھولی۔ چیئرمین ABM گروپ آف کمپنیز کے اعظم سلطان، پیزا ہٹ کے مالک عقیل حسین اور چیئرمینس ورتی انٹر پرائز عبدالرشید سورتی اور ان کے خاندان کے ارکان کی بھی اس نشاندہی ہوئی۔

Source . Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz