ممتازقادری کے حامیوں کا ایک اور خطرناک فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ممتازقادری کی پھانسی کو 40دن مکمل ہونے پر اہل دیہہ اور ان کے عزیزوں کی طرف سے 10اپریل کو ایک اور چہلم کی منصوبہ بندی کی اطلاعات پر وفاقی دارلحکومت کی انتظامیہ اور پولیس ممتازقادری کے اہلخانہ کے پاس پہنچ گئے ۔
انگریزی اخبار’ڈان‘ کے مطابق ممتازقادری کو 29فروری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی تھی اور 27مارچ کو ممتازقادری کے چہلم کے سلسلے میں سنی تحریک نے لیاقت باغ میں ایک تقریب کا انعقاد کا فیصلہ کیاتھا اور شرکاءوفاقی دارلحکومت میں پہنچ گئے تھے لیکن بعدمیں چاردن کیلئے ریڈزون میں دھرنا دیدیاتاہم کچھ دن قبل ایک مذہبی جماعت ، کچھ مزارات کی انتظامیہ اور وسطی پنجاب کے ایک سیاستدان نے 10اپریل کو چہلم کااعلان کردیا۔

نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر وفاقی انتظامیہ اور پولیس نے ’روزنامہ ڈان‘ کو بتایاکہ مذہبی جماعت نے چہلم منانے اور قادری کے گاﺅں اتھل سے ڈی چوک تک ریلی نکالنے کی دھمکی دی، اسی طرح مزارات کی انتظامیہ نے بھی چہلم منانے کا اعلان کیا، وہ قرآن خوانی کا انعقاد کرانے اور بعد میں ممتاز قادری کی قبر پر فاتحہ خوانی کا بھی منصوبہ بنارہے ہیں جبکہ اسی دوران ایک سیاسی رہنماءنے بھی اپنے حامیوں اور سیمینار کے طلباءسمیت ممتازقادری کی قبرپر جانے کااعلان کیا۔
رپورٹ کے مطابق انتظامیہ اور پولیس حکام نے ممتازقادری کے اہلخانہ کیساتھ میٹنگ کی تاکہ یہ یقین دہانی کی جاسکے کہ دارلحکومت میں کوئی سیکیورٹی مسئلہ نہیں ہوگا۔ میٹنگ کے دوران ممتازقادری کی فیملی نے بتایاکہ وہ اپنے گاﺅں میں چہلم کی تقریب منعقد کریں گے اور اس کیلئے 40سے 50دیہاتیوں اور اپنے عزیزوں کو دعوت دی ہے ، ان کا دیگر لوگوں یا ان کے کسی فعل سے کوئی تعلق نہیں ۔ فیملی کی طرف سے حکام کو زبانی یقین دہانی کرائی گئی کہ اس کے علاوہ وہ چہلم منانے والے کسی بھی شخص یا تنظیم کا ساتھ نہیں دیں گے ۔
ایک سوال کے جواب میں پولیس حکام نے بتایاکہ فیملی کو چہلم کیلئے پولیس یا مقامی انتظامیہ سے اجازت کی ضرورت نہیں تاہم ریلیاں نکالنے اور چہلم کیلئے دوسرے لوگوں کو اجازت لیناہوگی اور انتظامیہ نے فیصلہ کیاہے کہ وہ ریلیوں کے انعقادکی اجازت نہیں دیں گے ۔

Source . Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz