ٹارگٹڈ آپریشن کے 3 سال: 'سندھ سے 533 جرائم پیشہ افراد گرفتار'

21 July 2016

کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں توسیع میں تاخیر پرنیم فوجی فورس نے ستمبر 2013 سے شروع ہونے والے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران اندرون سندھ میں کی گئی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی۔

رینجرز کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق پاکستان رینجرز سندھ نے آرٹیکل 147 کے تحت دیئے گئے اختیارات کے تحت 5 ستمبر 2013 سے لے کر اب تک اندرون سندھ کے مختلف علاقوں میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 533 ملزمان کو گرفتار کیا۔

مزید کہا گیا کہ ان ملزمان میں سے 478 کو قانونی چارہ جوئی کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا جبکہ بقیہ 55 ملزمان کو دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں یعنی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)، کسٹم، فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) اور ایریگیشن ڈپارٹمنٹ کے حوالے کیا گیا۔

پریس ریلیز کے مطابق گرفتار ملزمان میں 127 غیر ملکی باشندے، 34کالعدم تنظیموں کے کارندے، 16 علیحدگی پسند تنظیموں اور 4 سیاسی جماعت کے عسکری ملزمان بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ 18 ڈکیت، 10 اسمگلرز، 11 غیر قانونی شکاری، 24 منشیات فروش اور 234 مختلف جرائم میں ملوث ملزمان شامل ہیں۔

ترجمان رینجرز کے مطابق اندرون سندھ میں قیام امن کے لیے رینجرز کے 2 افسران سمیت 3 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 2 اہلکار زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ رینجرز کے سندھ میں قیام کی مدت کل یعنی 20 جولائی کو ختم ہوچکی ہے تاہم سندھ حکومت کی جانب سے اب نیم فوجی فورس کے اختیارات میں توسیع نہیں کی گئی۔

2 روز قبل لاڑکانہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ سنگین جرائم پر قابو پانے کے لیے رینجرز کو صرف کراچی میں خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں، جبکہ نیم فوجی فورس کو کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر حصوں میں خصوصی اختیارات حاصل نہیں ہیں۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو خط لکھا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان کی بحالی میں رینجرز نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ اختیارات دینے میں تاخیر آپریشن کو متاثر کرے گی۔

دوسری جانب ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے بھی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران سندھ میں اختیارات ملنے میں تاخیر پر مشاورت کی تھی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ رینجرز نے جانوں کی پروا کیے بغیر کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی، جبکہ رینجرز کی کراچی میں امن کی کاوشیں ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی اور کراچی آپریشن باہمی مشاورت سے شروع کیا گیا اور رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے لیے وفاقی حکومت اپنا آئینی و قانونی کردار ادا کرتی رہے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس بھی سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز اختیارات میں توسیع نہ کرنے کے معاملے نے سر اٹھایا تھا،کیونکہ سندھ میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران نیم فوجی فورس کی جانب سے مختلف جرائم کے الزام میں حکومتی ارکان کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔

رینجرز کے اختیارات میں عمومی طور پر ہر 3 ماہ بعد توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا تھا مگر گذشتہ برس 8 جولائی کو صوبائی حکومت کی جانب سے ایک ماہ کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

واضح رہے کہ رینجرز نے کراچی میں ستمبر 2013 میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا تھا جو تاحال جاری ہے، ان 2 سالوں میں آپریشن کے نتیجے میں جرائم میں کسی حد تک کمی آئی ہے۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz