روزے کی حالت میں اگر کوئی شخص بھول کر کچھ کھاپی لے تو دیکھنے والوں کو اسے روکناچاہیے یا نہیں ؟ مسلمانوں کیلئے بنیادی سوال کا جواب مل گیا؟

16 June 2016

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف سکالر اور عالم مفتی عبدالقوی نے کہا ہے کہ روزے کی حالت میں اگر کوئی شخص بھول کر کچھ کہا رہا ہو تو دیکھنے والے کو چاہئےے کہ اسے کھانے سے نہ روکے ۔

روزنامہ پاکستان کے فیس بک بیج پر لائیو گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی نے واضح کیا کہ اسلام اس قدر فطرت کا دین ہے کہ اگر کسی محفل میں تین لوگ بیٹھے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک روزہ دار کو کھانے کیلئے کچھ دیدیے تو دیکھنے والوں کو چاہئیے کہ وہ اسے کھانے سے نہ روکیں ۔

انہوں نے حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھاتا ہے تو وہ یہ سمھجے کہ اللہ نے اس کی مہمانی کی ۔”جس شخص نے روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھایا وہ یہ سمجھے کہ بھول اسے اللہ کی طرف سے آئی “اور اللہ نے اسے یہ مہمانی دی ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی شخص روزے کی حالت میں ہوتا ہے مگر وہ بھول جاتا ہے کہ وہ روزے سے ہے تو وہ یہ سمجھے کہ اللہ نے اسے بھلا دیا اور اس نے کھانا شروع کر دیاتاہم ایسی صورت حال میں دیکھنے والے پر لازم ہے کہ وہ روزے دار کو کھانے سے نہ روکے جب تک کہ اس شخص کو خود احساس نہ ہو جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے فرمایا جو شخص روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھا لیتا ہے تو وہ میرا مہمان ہے کیونکہ اسے بھولنے کی کیفیت اللہ کی جانب سے درپیش ہوئی اس لیے دیکھنے والوں کو چاہئےے کہ وہ خاموش رہیں کیونکہ یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ روزہ دار کو علم نہ ہو کہ وہ روزے سے ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص روزے سے ہو اور بھوک کی وجہ سے کچھ کہا کر یہ سمجھے کہ اس نے بھول کر کچھ کہا لیا ہے تو اللہ معاف کرنے والا ہے ۔

مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ حدیث کا خلاصہ یہی ہے کہ جب کوئی شخص بھول کر کھاتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ وہ میرا مہمان ہے ۔اللہ ہی بھول کے بعد اسے شعور عطا کریگا اور جب اسے شعور ہو گا تو وہ فوراُُ کھانا پینا بند کر دیے گا ۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz