’’سب گندہ ہے پر دھندہ ہے یہ‘‘اڈیالہ جیل میں ہونے والی کرپشن ،ہوشربا انکشافات نے ہوش اڑا دیئے

29 April 2016

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک) اڈیالہ جیل سے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے مرکزی ملزم خالد شمیم کی ویڈیو لیکہونے کے بعد حساس اداروں نے اپنی ابتدائی رپورٹ مکمل کرلی ہے اور اڈیالہ جیل کے ناقص انتظامات کو سکیورٹیرسک قرار دے دیا ہے۔

نجی خبر رساں ادارے ’’آن لائن‘‘ کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیل کے اندر قید خطرناک دہشتگرداور اغواء برائے تاوان کے ملزمان بڑی وارداتوں کی منصوبہ بندی جیل کے اندر سے ہی کرتے ہیں ،جبکہ جیل کےاندر چوبیس لاکھ روپے سے زائد کی رقم ماہانہ بھتہ وصول کرکے ملک کے خطرناک ترین مجرمان کو موبائل فون کیسہولت فراہم کی گئی ہے۔ اڈیالہ جیل کے اطراف اور مین روڈ پر موبائل جیمرز بہت موثر ہیں، جبکہ جیل کی دہلیز سےآگے موبائل نیٹ ورک بہترین کام کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سابق اٹارنی جنرل سردار خان کے قتل کیمنصوبہ بندی بھی ملزم روح اللہ نے اڈیالہ جیل میں بیٹھ کر ہی کی تھی، واضح رہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے ملزم خالد شمیم کی ویڈیو لیک ہونے پر تحفظات کاحکم دیا تھا، جس پرمختلفتحقیقاتی اداروں نے اپنی رپورٹ مرتب کی ہے ،اس رپورٹ کے مطابق جیل کے اندر موبائل کے استعمالسمیت، چرس، ہیروئن وغیرہ کے استعمال کیلئے مجموعی طور پر جیل انتظامیہ دو کروڑ روپے کے لگ بھگ بھتہ وصولکرتی ہے۔ اڈیالہ جیل میں اس وقت موبائل رکھنے کیلئے 30 ہزار روپے ماہانہ ادائیگی کا ریٹ مقرر ہے۔ موبائل کا جیل کے اندر استعمال کرنے والے کچھ بااثر افراد 30 ہزار روپے سے زیادہ بھی دیتے ہیں اور وہ اپنا موبائل بطور پیسی او استعمال نہیں کرتے ،مگر کچھ قیدی اور حوالاتی حضرات نے جیل کے اندر سے کال کروانے کا ریٹ فی کال200 روپے مقرر کر رکھا ہے۔ اڈیالہ جیل کی کل بیرکس 8 ہیں اور ہر بیرک میں 8 کمرے ہیں اور ہر بیرک میں کم از کم 10 موبائل ضرور موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اعلیٰ حکام کی ہدایت پر جب موبائل کا استعمال جیل کے اندرروکنے کیلئے چھاپہ مارا جاتا ہے تو اس سے پہلے جیل انتظامیہ کے کارندے موبائل رکھنے والوں سے میٹنگ کر کےانہیں موبائل کسی ایک خاص جگہ رکھنے کی ہدایت کر دیتے ہیں اور چھاپہ مار ٹیم طے شدہ پلاننگ کے تحت پوریبیرک کی تلاشی لیتی ہے ،لیکن طے شدہ مقام کو جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور ارباب اختیار کو رام کرنے کیلئے 3، 4 موبائلوں کی برآمدگی ڈال کر ملزموں کیلئے مزید سختی کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جیل کے اندر بیرکنمبر ایک منشیات فروشی کا گڑھ ہے اور اس بیرک میں زیادہ تر غیر ملکی حبشی بند کئے جاتے ہیں۔ اس بیرک سےچرس اور ہیروئن کی فروخت عام ہوتی ہے اور جیل انتظامیہ اس دھندے کے ذریعے ماہانہ 50 لاکھ روپے کے لگ بھگ وصول کرتی ہے۔ اڈیالہ جیل میں قید حوالاتیوں اور قیدیوں سے ملاقات کیلئے 2500 رو پے مخصوص ہے اوردن بھر میں جیل انتظامیہ کے کارندے اس کاروبار میں مشغول رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام ملاقاتوں کا بھی سو روپے سے لیکر 500 روپے تک وصول کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شہری نے اپنے کسی پیارے کو جیل کےاندر رات گئے کھانے کا سامان یا سونے کیلئے بستر وغیرہ فراہم کرنا ہو تو اس کیلئے جیل کے کارندے فی بیک 500 روپے وصول کرتے ہیں اور اگر جیل میں جونیوالا ملزم خود کو ہسپتال کے وی آئی پی ماحول میں شفٹ کروانا چاہے تو30 ہزار روپے ماہانہ ادائیگی پر یہ سہولت بھی دستیاب ہے۔ اگر دن کے وقت جیل کے اندر سامان پہنچانا مقصود ہو تو فی بیک 200 روپے مقرر ہے۔ جیل کے اندر چرس کی دو گولی جو باہر سو روپے میں ملتی ہے وہ 500 روپے میں آسانی سے مل سکتی ہے۔ جیل کے اندر کی اس دنیا میں مہنگائی کا گراف باہر کی نسبت 400 گنا زیادہ ہے۔ سرکاری طور پر قیدیوں اور حوالاتیوں کیلئے پکائی جانیوالی روٹی اور دال بھی انتہائی غیر معیاری ہوتی ہے اور بجٹ کا زیادہ تر حصہ جیل انتظامیہ اپنی جیبوں میں ڈال لیتی ہے۔ جیل کی اس پراسرار دنیا میں غربت اور بے بسی کی بھی کئی داستانیں دیکھنے کو ملتی ہیں کیونکہ وکیل کی فیس یا جرمانہ ادائیگی نہ ہونے سے کئی قیدی طویل عرصہ سے اس دنیا میں زندگی کی سانسیں پوری کر رہے ہیں۔ جیل کے اندر کسی بھی فراڈ یا قومی دولت لوٹنے کے الزام میں جانے والا بااثر شخص ان لاوارث قیدیوں کو اپنا مشقتی رکھ لیتا ہے اور یہ لاوارث ملزم صرف کھانے کی اجرت پر اس بااثر شخص کی خدمت پر معمور ہو جاتے ہیں۔ بااثر ملزمان کے لئے جیل کے اندر بہترین جگہ اور بہترین بستر موجود ہیں جبکہ لاوارث قیدی اور حوالاتی راہداریوں میں سو کر وقت گزارتے ہیں۔ اڈیالہ جیل کی 8 بیرکس کے 64 کمروں میں تقریباً 7 ہزار افراد اپنے کردہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ جیل پہنچتے ہی باعزت طور پر بیرک میں منتقل ہونے کا ریٹ5000 ہزار روپے ہے، بصورت دیگر جیل انتظامیہ مرغا بھی بنا دیتی ہے اور جوتے بھی مارتی ہے۔ جیل کے اندر آباد اس دنیا کے الگ رسم و رواج اور الگ ہی قانون ہیں، اس پر اسرار دنیا کے رسم و رواج کو بدل دینا وزیر داخلہ کیلئے مشکل ہی نہیں شائد ناممکن بھی ہے۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz