بحریہ ٹاؤن جیسےمنصوبے غریبوں کیلئےایٹم بم

17 May 2016

کراچی: شہر قائد کے دیہی علاقوں میں قائم کیے جانے والے بحریہ ٹاؤن جیسے منصوبے شہر کی آبادی کا نقشہ بدل دیں گے، ترقی کے نام پر غریبوں کے ساتھ بڑا کھیل کھیلا جارہا ہے، ایسے منصوبے مقامی افراد کے حقوق کو بری طرح روند رہے ہیں اور غریبوں کے لیے ایٹم بم کی مانند ہیں۔

یہ وہ چند خیالات ہیں جن کا اظہار مصنفین، مورخین، محققین اور ماہرین نے ‘سیو سندھ کمیٹی’ (سندھ بچاؤ کمیٹی) کے زیر اہتمام ’بحریہ ٹاؤن: ترقی یا تباہی‘ کے نام سے ایک سیمینار میں کیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مورخ گل حسن کلمتی نے کہا کہ ملک ریاض نے جس وقت کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے منصوبے کا اعلان کیا، اس وقت ان کے پاس ایک انچ زمین بھی نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بکنگز سے اربوں روپے کمائے، جبکہ منصوبے کے لیے سیاستدانوں کو بڑی رشوت دے کر زمین حاصل کی گئی۔

انہوں نے اس منصوبے کے مضمرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ منصوبے کے تحت اس وقت 23 ہزار 300 ایکڑ زمین پر کام جاری ہے، لیکن ہدف 43 ہزار ایکڑ زمین ہتھیانہ ہے اور اس سلسلے میں سرگرمیاں بھی شروع کردی گئی ہیں، جس سے مزید 8 سے 9 گوٹھ متاثر ہوں گے، جبکہ مجموعی طور پر اس منصوبے سے 45 گوٹھ متاثر ہوئے ہیں اور ابھی تو یہ صرف شروعات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے کیوں آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے سردار کیوں خاموش ہیں؟ وہ اس لیے خاموش ہیں کیونکہ انہیں بھی خریدا جاچکا ہے اور بحریہ ٹاؤن کی آمدنی کا 10 فیصد حصہ ان کی جیبوں میں جاتا ہے۔

آرکیٹیکٹ اور ترقیاتی امور کے ماہر عارف حسین کا سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کراچی کے لیے 1953 میں ہونے والی پہلی منصوبہ بندی کے تحت شہر کے اطراف میں واقع دیہی علاقے زراعت کے لیے مخصوص کیے گئے تھے، اسی کو 1958، 1989 اور 2000 کی منصوبہ بندی میں دہرایا گیا اور اس حوالے سے کسی حد تک کام شروع بھی ہوچکا تھا، لیکن پھر زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کے دباؤ میں آکر کام روک دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک ریاض کا بحریہ ٹاؤن کا منصوبہ لاہور اور اسلام آباد میں بھی قائم ہے، لیکن زمینوں پر قبضہ کرنے کے حوالے سے وہاں اب بھی کچھ شفافیت باقی ہے۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz