عمران خان کو ٹف ٹائم دینے کا ’مشورہ‘

13 July 2016

لاہور : آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سمیت اپوزیشن جماعتوں کے پاناما لیکس کی تحقیقات کے مطالبے سے نمٹنے کیلئے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے صلاح مشورے تیز کر دیئے۔

حکومت کے اندورنی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے رائیونڈ میں قریبی ساتھیوں سے ملاقات کی اور آرمی چیف کی ملازمت کی توسیع پر تبادلہ خیال کیا۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے ان اطلاعات کو افواہ قرار دیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شریف خاندان ملک کے کچھ شہروں میں آویزاں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے عہدے پر برقرار رہنے کا مطالبہ کرنے والے بینرز کے حوالے سے بے خبر نہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب کی غیر معروف تنظیم ’موو آن پاکستان‘ نے ایک بار پھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصاویر والے بینرز ملک کے 13 شہروں کی شاہراہوں پر آویزاں کیے، جن میں آرمی چیف سے مارشل لاء نافذ کرنے اور ملک میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حکمران جماعت کے اعلی سطح کے اجلاس میں خصوصی پر طور پر آرمی چیف کے حوالے سے متنازع بینرز کو زیر بحث لایا گیا۔

وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کے درمیان ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی، یہ سارے ملکی معاملات ہیں، کھانے کی میز پر ان معاملات پر بات چیت نہیں کی جاسکتی۔

پرویز رشید نے بتایا کہ جنرل راحیل شریف پاک فوج کے سربراہ ہیں جبکہ فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، پوری قوم آرمی چیف کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے، ہمیں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ان کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی آرمی چیف کی مدت ملازمت کو ختم ہونے میں بہت وقت باقی ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی۔

جنرل راحیل شریف کی حمایت میں لگائے گئے بینرز کے بارے میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان بینرز اور پوسٹرز کا آرمی چیف سے کوئی تعلق نہیں۔

خیال رہے کہ پاک فوج، مختلف شہروں میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی حمایت میں لگے بینرز سے لاتعلقی کا اظہار کرچکی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کے تصویر والے بینرز کا فوج یا اس سے منسلک کسی ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz