’بریانی کے بغیر ہر تقریب ادھوری‘

29 September 2016

٭کھانوں کے بارے میں بی بی سی اردو کی سیریز کی تیسری قسط میں چاولوں سے تیار کیے جانے والے مرغوب ترین پکوانوں میں سے ایک یعنی بریانی پر نظر ڈالی گئی ہے۔ اس سیریز سے متعلقہ تحریریں اور ویڈیوز ہر ہفتے بدھ کو ویب سائٹ پر شائع کی جائیں گی۔

بریانی چاولوں کی ایک ایسی ڈش ہے، جس میں خاص طور پر اعلیٰ قسم کے باسمتی چاول اور مختلف روایتی مصالحے شامل ہوتے ہیں۔

بریانی کو زیادہ تر گائے، بکرے، مرغی کے گوشت اور سبزیوں کے ساتھ بھی پکایا جاتا ہے۔ یہ خالصتا عربی یا فارسی ڈش کہلاتی ہے اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھتی ہے۔

بریانی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، عراق، ایران، افغانستان، برما اور تھائی لینڈ میں بےحد مقبول ہے۔ اس کا نام بریانی فارسی زبان کے لفظ بریان سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے تلی ہوئی یا بھنی ہوئی چیز۔

مختلف جگہوں اور گھرانوں میں بریانی پکانے کا طریقہ تھوڑا الگ ہوتا ہے، لیکن اس کے بنیادی اجزا آج تک برقرار ہیں، جن میں گھی، زیرہ، لونگ، الائچی، دار چینی، تیزپتا، ثابت دھنیا، پودینہ، ادرک، لہسن، زعفران اور پیاز شامل ہیں، جب کہ گوشت میں گائے کا گوشت، مرغی کا گوشت، بکرے کا گوشت، بھیڑ یا دنبے کا گوشت اور جھینگے شامل ہیں۔


بعض علاقوں میں بریانی دہی کی چٹنی یا رائتے اور سلاد کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔

بریانی سے ملتی جلتی ایک ڈش پلاؤ ہے، جو کہ بریانی کی طرح ہی بہت شوق سے کھائی جاتی ہے مگر پلاؤ اور بریانی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پلاؤ پکاتے ہوئے تمام مصالحے چاولوں کے ساتھ ہی پکتے ہیں، جب کہ بریانی میں چاول بالکل الگ اور باقی مصالحے الگ پکائے جاتے ہیں اور بعد میں تہہ لگا کر چاولوں اور مصالحوں کو یکجا کیا جاتا ہے۔

ایران میں بریانی کا اصل شہر اصفہان ہے، جہاں اسے بکرے یا گائے کے پھیپھڑے اور بکرے کی ران کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔ گوشت کو پہلے آگ پر پکایا جاتا ہے پھر چاولوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

پاکستان اور نارتھ انڈیا میں بریانی بے حد مقبول ہے اور یہاں اسے مرغی، بکرے یا گائے کے گوشت کے ساتھ خاص طور پر پکایا جاتا ہے۔

پاکستان میں مرغ بریانی بہت مقبول ڈش ہے، جو کہ بالکل لکھنئو کی ایک بریانی اوادھی کی ایک شکل ہے۔

پاکستان اور بھارت میں بننے والی یہ مرغ بریانی دراصل لکھنئو کی خاص بریانی ہے، جسے بھارت میں بھی اوادھی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حیدرآبادی بریانی میں سبزیوں کا استعمال بالکل نہیں ہوتا۔ یہاں کی بریانی، خاص طور پر کچے گوشت کی بریانی خاصی مشہور ہے۔ حیدرآباد دکن کے نواب نظام کے سر یہ سہرا جاتا ہے کہ انھوں نے بریانی کی 49 ڈشز متعارف کرائیں۔

بریانی کی ایک قسم ملبار یا ملباری بریانی بھی ہے، جس کا تعلق ملبار یعنی کیرالہ سے ہے۔ اس بریانی کا تعلق عرب سے بھی بتایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ پیاز اور ٹماٹر کا سلاد اور ایک خاص لیموں کی چائے پیش کی جاتی ہے، جسے مقامی زبان میں سلیمانی چائے کہا جاتا ہے۔

بریانی کی ایک اور خاص قسم بہت مقبول ہے، جو کہ گوشت کے بغیر صرف سبزی یا آلو کے ساتھ بنائی جاتی ہے اور اسے عام زبان میں تہری کہتے ہیں۔ لوگ تہری کے نام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہ بریانی بنگلہ دیش کی خاص بریانیوں میں سے ایک ہے۔

ایک بریانی برما کی ہے، جسے عام زبان میں دم پخت بریانی کہا جاتا ہے۔ اس میں دیگر بنیادی مصالحوں کے ساتھ ساتھ کاجو، دہی، کشمش، مٹر، مرغی کا گوشت، دارچینی، زعفران اور تیزپتا شامل کیا جاتا ہے۔

تھائی لینڈ میں بھی بریانی کی طرح کی ایک ڈش بہت مقبول ہے۔ یہاں بسنے والے مسلم خاندان اپنے تہواروں یا عام دعوتوں پر اس بریانی کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ تھائی بریانی کو ایک مشہور تھائی کری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، جسے مقامی زبان میں میسمین کہا جاتا ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بریانی ایشیا میں کھائی اور پسند کی جانے والی ایک خاص ڈش ہے، جس کی لاتعداد اقسام ہیں اور یہ سب بے حد مقبول اور شوق سے کھائی جاتی ہیں۔

شاید ہی کوئی ایسی تقریب ہو جس میں بریانی نہ پکائی جاتی ہو، بلکہ اب تو یہ حال ہے کہ بریانی کے بغیر لوگ کسی بھی تقریب کو ادھورا سمجھتے ہیں، یعنی تقریب اور بریانی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں۔

Source. BBC News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz