پولیس کی مبینہ فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت معمہ بن گئی

12 July 2016

کراچی(صباح نیوز)کراچی کے علاقے سندھی مسلم سوسائٹی میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت معمہ بن گئی۔ فائرنگ کرنے والے اہل کار کس ادارے کے تھے ، فائرنگ کرکے کہاں غائب ہوگئے ، معمہ حل نہ ہوا۔علاقہ پولیس نے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔پولیس کا کہناہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق موبائل سی ٹی ڈی کی تھی۔ ایس ایس پی ایسٹ کا کہناہے موبائل سے متعلق معلومات جمع کررہیہیں۔ دلنواز کی کار پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی اور ملزم پر پہلے بھی جعل سازی کے کئی مقدمات درج ہیں۔مقتول ابرار کے دوستوں شہریار اور نقاش نے پولیس کو بیان قلم بند کرادیا۔بیان کے مطابق ابرار نے دو روز قبل ویب سائٹ پر اپنا ذاتی موبائل بیچنے کا

اشتہار دیا تھا۔ دلنواز نے فون کرکے موبائل فون خریدنے کیلئے 30 ہزار روپے کی پیشکش کی اور صدر میں شاپنگ مال کے سامنے بلایا۔دلنواز نے موبائل فون کے عوض 15 ، 15 ہزار کے دو پرائز بانڈ دئیے۔ ہمیں فائرنگ کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں۔گزشتہ شب سندھی مسلم سوسائٹی میں کار پر فائرنگ سے نوجوان ابرار جاں بحق ہوا جبکہ ایک شخص دلنواز زخمی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جاں بحق ابرار کے جسم پر تین گولیاں لگیں ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق مقتول ابرار اور زخمی دلنواز آپس میں موبائل فون کا لین دین کر رہے تھے۔ دلنواز نے پیسے لیکر موبائل دیئے بغیر گاڑی بھگا دی جس پر ابرار نے گاڑی میں سوار ہونے کی کوشش کی اور لٹک گیا۔ اسی دوران پیچھے سے آنے والی پولیس موبائل سے فائرنگ کی گئی۔ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی۔

دلنواز پر پہلے بھی جعلسازی کے کئی مقدمات درج ہیں جس پولیس موبائل سے گاڑی پر فائرنگ کی گئی وہ فیروز آباد تھانے کی نہیں ہے۔ مقتول کے پاس سے ملنے والے پرائز بانڈ جعلی ہیں۔مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ابرار کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او جناح اسپتال ڈاکٹر شہزاد کے مطابق ابرار کو 3 گولیاں لگیں۔ ایک گولی سر پر لگی،2 گولیاں مقتول کے جسم کے آر پار ہو گئیں۔ گولیاں چھوٹے اسلحے کی ہیں۔ابرار کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔واقعے کے خلاف مقتول ابرار کے اہل خانہ نے جناح اسپتال کے باہر احتجاج کیا۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz