کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خودکش دھماکا، 53 افراد ہلاک

8 August 2016

کوئٹہ: صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔

فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایڈووکیٹ بلال انور کاسی کی فائل فوٹو—۔ڈان نیوز

ڈان نیوز کے مطابق پیر 8 اگست کی صبح نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بلوچستان بار کونسل کے صدر ایڈووکیٹ بلال انور کاسی کی میت سول ہسپتال لائی گئی تھی۔

سول ہسپتال میں وکلاء کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی کہ اس دوران ہسپتال کے شعبہ حادثات کے بیرونی گیٹ پر زور دار دھماکا ہوا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے ہسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خودکش دھماکے کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے۔

ڈان نیوز کے مطابق دھماکے کے خودکش ہونے کی تصدیق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے کی۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق

کوئٹہ بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی فائرنگ سے قتل ہوئے

ان کی میت سول ہسپتال لائی گئی، جہاں زوردار دھماکا ہوا

دھماکے میں 53 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد وکلاء کی ہے

بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دھماکے کے خودکش ہونے کی تصدیق کردی

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے نجی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے ہندوستانی خفیہ ایجنسی ‘را’ کا ہاتھ ہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ شدت غم سے نڈھال ہیں—۔فوٹو/ اے ایف پی

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک ایسے وقت میں یہ بیان دیا جبکہ ابھی دھماکے کی ابتدائی تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں اور نہ ہی دھماکے کی وجہ کا تعین کیا گیا۔

ثناء اللہ زہری کا کہنا تھا کہ دھماکا بظاہر خودکش لگتا ہے، تاہم پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کی ہدایت پر کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی—۔فوٹو/ اے ایف پی

سینئر پولیس عہدیدار ظہور احمد آفریدی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد وکلاء کی ہے جن میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر باز محمد کاکڑ بھی شامل ہیں۔

جائے وقوع پر موجود صحافی بھی دھماکے کی زد میں آئے، نجی نیوز چینل آج ٹی وی کے کیمرہ مین واقعے میں ہلاک جبکہ ڈان نیوز کے کیمرہ مین زخمی ہوگئے۔

دھماکے کے بعد جائے وقوع پر فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

زیادہ زخمی ہونے والوں کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا جبکہ کم زخمی ہونے والوں کو سول ہسپتال میں ہی طبی امداد دی گئی۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلخانہ شدت غم سے نڈھال ہیں—۔فوٹو/اے ایف پی

ترجمان بلوچستان حکومت انوارالحق نے ڈان نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ غالب امکان یہی ہے کہ دھماکا خودکش تھا، تاہم اس کی تصدیق سیکیورٹی فورسز ہی کریں گی۔

واقعے کی ذمہ داری ابھی تک کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا۔

دھماکے کے بعد کے مناظر

سوگ کا اعلان

بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال کاسی کی ہلاکت اور بعدازاں سول ہسپتال میں دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد سپریم کورٹ بار نے ملک بھر میں سوگ کا اعلان کردیا۔

بعدازاں بلوچستان حکومت کی جانب سے بھی 3 روزہ سوگ کا اعلان کردیا گیا۔

دھماکے کی مذمت

دھماکے کے بعد ایک شخص کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے—۔فوٹو/ اے ایف پی

وزیراعظم نواز شریف نے کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بڑی قربانیاں دے کر بلوچستان میں امن قائم کیا ہے، کسی کو بھی صوبے میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

صدر مملکت ممنون حسین نے بھی کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کوئٹہ میں دھماکے کی شدید مذمت کی۔

دھماکے میں زیادہ تر وکلاء ہلاک ہوئے—۔فوٹو/ اے ایف پی

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz