وسیم اختر نے کراچی کے میئر کا حلف اٹھالیا

30 August 2016

کراچی: کراچی کے نو منتخب میئر وسیم اختر اور ڈپٹی میئر ارشد وہرہ نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا۔

حلف برداری کی تقریب کراچی کے پولو گراؤنڈ میں ہوئی، جہاں ریٹرننگ افسر سمیع صدیقی نے حلف لیا۔

کراچی کے نو منتخب میئر وسیم اختر اور ڈپٹی میئر ارشد وہرہ—۔ڈان نیوز
کراچی کے نو منتخب میئر وسیم اختر اور ڈپٹی میئر ارشد وہرہ—۔ڈان نیوز

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے تعلق رکھنے والے وسیم اختر ڈاکٹر عاصم حسین کیس میں دہشت گردوں کی مدد کرنے کے الزامات کے تحت اِن دنوں جیل میں ہیں، انھیں 19 جولائی 2016 کوانسداد دہشت گردی عدالت کے حکم پر گرفتارکیا گیا تھا، جبکہ انھوں نے 25 سے زائد دہشت گردی کے مقدمات میں ضمانت لے رکھی ہے۔

وسیم اختر کو حلف اٹھانے کے لیے پولیس سیکیورٹی میں سینٹرل جیل سے پولو گراؤنڈ لایا گیا۔

اس موقع پر ایم کیو ایم کے سینئر ترین رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن بھی موجود تھے۔

حلف اٹھانے کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر نے شہر کی روایتی چابی نو منتخب میئر وسیم اختر کے حوالے کردی۔

‘جئے متحدہ، جئے بھٹو، جئے عمران کا نعرہ’

حلف اٹھانے کے بعد نومنتخب میئر کراچی وسیم اختر نے جئے متحدہ، جئے بھٹو اور جئے عمران کا نعرہ لگایا اور کہا کہ میں آج سب کو مطمئن کردینا چاہتا ہوں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وسیم اختر نے الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ ہم سب مل کر کراچی کے مسائل حل کریں گے۔

ساتھ ہی انھوں نے سپریم کورٹ کا بھی شکریہ ادا کیا، جس کے احکامات کے نتیجے میں 9 ماہ بعد انھوں نے حلف اٹھایا۔

وسیم اختر نے سندھ حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی اس شہر کے مسائل سے نجات دلانے کے لیے ہماری مدد کریں گے۔

انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 8 سال بعد اس شہر میں میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب ہوئے ہیں، لہذا ہمیں اختلافات بھلا کر اس کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ‘حلف لینے کے بعد اب ہمارا سیاست سے تعلق ختم ہوگیا ہے، اب ہم سیاسی لوگ نہیں رہے، لہذا 4 سال ہمیں اس شہر کی خدمت کرنی ہے اور اس شہر کے مسائل حل کرنے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف ملنے اور جیل سے رہائی کے بعد وہ شہر کے لوگوں اور الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ‘ہماری نیت صاف ہے، ہم اس شہر اور صوبے کو بنانا چاہتے ہیں، ہم پاکستان کو ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، پاکستان ہے تو ہم ہیں’۔

بعدازاں وسیم اختر نے دیگر ایم کیو ایم رہنماؤں کے ساتھ دوبارہ ڈائس پر آکر کہا کہ ‘میں فاروق ستار بھائی کی سربراہی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ساتھ ہوں اور ان کے ہاتھ مضبوط کروں گا اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے، ہم سب مل کر بلا امتیاز کام کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو کروں گا۔

وسیم اختر نے اس موقع پر لانگ لِو کراچی، لانگ لِو سندھ اور لانگ لِو پاکستان کا نعرہ بھی لگایا۔

تقریب حلف برداری کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان نے احتجاج کیا۔

فیصل واوڈا کی حلف برداری روکنے کی درخواست

وسیم اختر کے پروڈکشن آرڈر کا عکس—۔ڈان نیوز
وسیم اختر کے پروڈکشن آرڈر کا عکس—۔ڈان نیوز

میئر کی حلف برداری کی تقریب کے لیے گذشتہ روز وسیم اختر کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے، تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فیصل واوڈا کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کے بعد سیشن جج جنوبی نے یہ آرڈرز واپس لے لیے۔

فیصل واوڈا نے وسیم اختر کی حلف برداری روکنے کی درخواست دائر کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے بانی غدار ہیں، لہذا وسیم اختر کو کراچی کا میئر منتخب ہونے سے روکا جائے۔

فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ ان کی دائر درخواست کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ آخری دم تک لڑیں گے۔

تاہم سندھ ہائی کورٹ نے فیصل واوڈا کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی، جس کے بعد وسیم اختر کے پروڈکشن آرڈرز دوبارہ جاری کیے گئے۔

وسیم اختر کراچی کے پہلے میئر ہوں گے جو جیل میں رہ کر شہر کا انتظام چلائیں گے۔

وسیم اختر رواں ماہ 24 اگست کو ہونے والی پولنگ کے نتیجے میں کراچی کے میئر منتخب ہوئے تھے، جنھیں ووٹ ڈالنے کے لیے جیل سے لایا گیا تھا۔

میئر کے انتخاب کے لیے 305 میں سے 294 ڈالے گئے جن میں سے ایم کیو ایم کے امیدوار وسیم اختر کو 208 ووٹ ملے جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار کرم اللہ وصی نے 86 ووٹ حاصل کیے تھے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن—۔ڈان نیوز
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن—۔ڈان نیوز

کراچی کے میئر منتخب ہونے کے بعد وسیم اختر نے کہا تھا کہ ‘میں ایم کیو ایم کا نہیں بلکہ کراچی کا میئر ہوں اور اس ناطے ہم مل کر شہر کے لیے کام کریں گے۔’

اس سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے کراچی کے میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوں کی کامیابی کا نوٹفیکیشن جاری کیا گیا، تاہم کراچی غربی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن ابھی جاری نہیں کیا گیا، جبکہ 10 مختلف کونسل اور کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمینوں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی روک دیا گیا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ٹھٹھہ، خیرپور، جامشورو، سانگھڑ، عمرکوٹ اور کراچی ویسٹ کے نوٹیفکیشن مختلف وجوہات پر روکے گئے۔

وسیم اختر کون ہیں؟

کراچی کے میئر کے عہدے پرفائز ہونے والے وسیم اختر متحدہ قومی موومنٹ کے پرانے کارکنوں میں سے ایک ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد کراچی کے 14 ویں مئیر بننے والے وسیم اختر 25 نومبر1955 کو پیدا ہوئے۔

فوٹو/ڈان نیوز
فوٹو/ڈان نیوز

وسیم اختر نے ٹیلی کمیونیکیشن میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی اور 1988 میں ایم کیو ایم میں شامل ہوئے۔

ابتدائی طور پر انہوں نے نچلی سطح پرکام کیا اور پھر جلد ہی قائدین کی فہرست میں شامل ہوگئے۔

12 مئی 2007 کو جس وقت سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنی معزولی کے زمانے میں کراچی آئے تھے، تو اس وقت فسادات میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، اس زمانے میں وسیم اختر ہی سندھ کے وزیر اعلیٰ کے مشیر داخلہ تھے۔

2008 میں وسیم اختر نے متحدہ کے ٹکٹ پرصوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر سندھ اسمبلی میں پہنچ گئے۔

5 دسمبر 2015 کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں وسیم اختر لائنز ایریا سے کامیاب ہوئے، جس کے بعد انہیں کراچی کے مئیرکے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔

19 جولائی 2016 کوانسداد دہشت گردی کی عدالت کے حکم پر دہشت گردوں کی مدد کرنے کے الزام کے تحت وسیم اختر کو گرفتارکیا گیا۔

ارشد وہرہ کون ہیں؟

ایم کیو ایم کے منتخب ڈپٹی میئر کا پورا نام ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ ہے۔

وہ 16 جولائی 1958 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔

فوٹو/ ڈان نیوز
فوٹو/ ڈان نیوز

ڈپٹی میئر منتخب ہونے سے پہلے وہ سندھ اسمبلی کے رکن تھے۔

انہوں نے کراچی کے حلقہ پی ایس 115 سے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

ارشد وہرہ کا تعلیمی کیریئر بھی شاندار ہے اور وہ بیرون ملک سے بھی متعدد ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں۔

انہوں نے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے کیمیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کیا، جبکہ برطانوی یونیورسٹی سے ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

پیشے کے لحاظ سے وہ ایک تاجر ہیں اور سندھ اسمبلی کا رکن بننے سے پہلے ارشد وہرہ سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے چیئرمین بھی رہے۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz