نجی سکولوں کی فیس میں کمی کا حکم نامہ

23 June 2016

پاکستان کی وفاقی حکومت نے نجی سکولوں کی فیسوں میں کمی کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔

خیال رہے کہ والدین کی جانب سے احتجاج کے بعد وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم بلیغ الرحمان نے کہا تھا کہ نجی سکولوں کی جانب سے فیسوں میں حالیہ بلاجواز اضافہ کسی کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں۔

والدین پیسوں کی مشین نہیں

حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق نجی سکول میں معیاری تعلیم کے لیے ہر جماعت میں بچوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 30 ہونی چاہیے، جب کہ پرائمری لیول میں 160، مڈل میں 220 طلبہ، سیکینڈری یا او لیول میں 260 طلبہ جبکہ ہائر سیکینڈری لیول پر 300 طالب علم رکھے جائیں۔

اس سلسلے میں مختلف درجوں میں بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ کی کم ازکم تعلیمی قابلیت کو بھی متعین کیا گیا ہے۔

نجی سکولوں کے لیے یہ لازم ہو گا کہ وہ 23 مارچ کو یوم پاکستان، 14 اگست کو یومِ آزادی، نومبر یوم اقبال 25 دسمبر کو قائداعظم کی برسی منائیں۔

نئے قانون کے مطابق یہ لازم ہو گا کہ تمام ٹیوشن سینٹر اور ڈے کیئر سینٹر آئی سی ٹی میں رجسٹرڈ ہوں۔

بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سکول کی انتظامیہ، عملہ اور بچے ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں جو معتصبانہ ہوں اور ملکی استحکام اور یکجہتی کے خلاف ہوں یا وہ ریاست سے ساتھ غداری پر اکسائیں۔

اس کے علاوہ ادارتی پلیٹ فارم سے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک یا معتصبانہ رویے سے باز رہنے کو کہا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نجی سکولوں کی کارکردگی کی بنا پر ان کو اے بی یا سی کیٹیگری میں رکھا جائے گا۔

نجی سکولوں کے لیے یہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کو سکول یونیفارم کسی مخصوص دکان سے خریدنے کو نہیں کہیں گے، اور ادارے کو صرف یونیفارم کے ڈیزائن کا حق حاصل ہو گا۔

نجی سکولوں کے لیے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ والدین کے درمیان رابطے کا اہتمام کریں تاکہ بچوں کی جانب سے اصولوں کی خلاف ورزی کا فیصلہ، امتحانات کا جائزہ اور اساتذہ سے متعلق معاملات اور اتھارٹی کو تجاویز دینے کا عمل ممکن ہو سکے۔

نئے قوانین کے تحت اساتذہ کے سروس معاملات کو بھی دیکھا جائے گا ساتھ ہی ساتھ بچوں کی فیس، ایڈمیشن فیس اور سکول چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ کا معاملہ بھی دیکھا جاسکے گا۔ اس سلسلسے میں اساتذہ کی ترقی کے لیے ان کی کارکردگی کو بھی جانچا جائے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق نجی سکول صرف فیس کی اتنی ہی رکھ سکتے ہیں جتنی حد اتھارٹی کی جانب سے مقرر کی گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ اس سے زیادہ فیس نہیں اکٹھی کر سکتا جتنی اتھارٹی کی جانب سے مقرر کی گئی ہے۔

حکم نامے کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دیے جانے والے رہنما اصولوں سے سکولوں کی فیس کا ڈھانچہ بنانا ممکن ہوا۔ مثال کے طور پر اگر ایک نجی سکول میں 500 یا اس سے زائد بچے داخل کرنے کی گنجائش ہو، تمام کمرے ایئرکنڈیشنڈ ہوں، اساتذہ کی اوسط تنخواہ 50 ہزار ہو، عمارت کا کرایہ ایک لاکھ ہو، تو وہ میٹرک، ایف اے، ایف ایس سی لیول تک فی بچہ 8350 روپے فیس لیں، جبکہ او لیول اور اے لیول کے لیے یہ فیس 12525 ہونی چاہیے۔

حکم نامے کے مطابق اس ماہانہ فیس میں تمام اخراجات شامل ہوں گے۔

تاہم اتھارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ نجی سکول آئی سی ٹی کی مقرر کردہ حد کو عبور نہیں کر سکتے تاہم وہ اتھارٹی کے سامنے فیسوں کو بڑھانے کی تجویز پیش کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنے اخراجات اور مالیاتی بیان دے سکتے ہیں جس کا حتمی فیصلہ وضع شدہ اصولوں کے تحت ہو گا۔

Source. BBC Urdu News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz