خیبرپختونخوا:بارشوں سے نظام زندگی مفلوج

16 June 2016

پشاور: خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کے نتیجے میں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے 3 بچوں سمیت 7 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 70 سے زائد زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، طوفان سے بجلی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

طوفان سے بجلی، گیس اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہوا، جس کی وجہ سے شہریوں کو روزے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پشاورمیں دیوار گرنے سے تباہ ہونے والی گاڑیوں کو ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں—فوٹو/اے پی

95کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والے طوفان اور بارشوں سے سب سے زیادہ تباہی بنوں اور مردان میں ہوئی۔

بنوں میں چھت گرنے سے 2 بچے جبکہ مردان کے علاقے رستم میں دو خواتین ہلاک ہوئیں۔

طوفانی بارشوں سے پشاور میں بھی ایک بچے سمیت 2افراد ہلاک ہوئے،جبکہ چھتیں اور دیواریں گرنے سے 70سے زائد افراد زخمی ہوئے جنہیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

طوفانی بارش سے پشاور سمیت مختلف اضلاع میں مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔

پیسکو ترجمان کے مطابق طوفانی بارش سے بنوں، سوات،صوابی،مردان اور ہزارہ کے علاقوں میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔

پشاور کے متعدد متاثرہ علاقوں کی بجلی طویل دورانئے تک بحال نہ ہو سکی، جبکہ پیسکو کی جانب سے بحالی کے دعوے کیے جاتے رہے۔

مزید بارشوں کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور سمیت صوبے کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اورپشاور میں آندھی و طوفان کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں اور آندھی و طوفان کے خدشہ کے پیش نظر تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کو حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش بالاکوٹ میں 75 ملی میٹر، کاکول 68، مالم جبہ 42، پشاور 24 اور سیدو شریف و تیمر گرہ میں 14 ، 14 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی۔

بارش سے جہاں گرمی کا زور ٹوٹا وہیں جانی و مالی نقصان بھی ہوا، پشاور شہر میں جگہ جگہ گرے ہوئے درخت اور سائن بورڈز اٹھانے جبکہ نکاسی آب کی ابتر صورت حال کو درست کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں نے بھاری مشینری سے امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔

صوبے کے درالحکومت پشارو میں اکثر مقامات اور سڑکوں پر طویل وقت کے لیے بارش کا پانی کھڑا رہنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz