”آرمی چیف کی وہ بات جسے ماننے سے وزیراعظم نے انکار کر دیا“ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

14 May 2016

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے دو شریفوں کے درمیان مسئلہ ضرور ہے، کچھ کالم نگار اورتجزیہ کار کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی جسے مسترد کر دیا گیا جبکہ حکومت کہتی ہے کہ ہم سے مدت ملازمت میں توسیع کا کہا گیا تھا لیکن ہم نے انکار کر دیا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ” نواز شریف کی نئی ”کچن کیبنٹ“ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب تھے اور وہ اس چیز کو بیچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اندر کی خبر ہے۔ نواز شریف اور ان کے قریبی ساتھی جیسے دانیال عزیز، طلال چوہدری وغیرہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا میں کچھ اینکرز اسٹیبلشمنٹ کی پراکسیاں ہیں اور کالم نگار بھی ایسے ہیں جو حکومت کے خلاف سازش کر رہے ہیں، کردار کشی کر رہے ہیں، افواہیں پھیلاتے ہیں جبکہ دوسری طرف کی سائیڈ یعنی اسٹیبلشمنٹ بھی سمجھتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) میڈیا کو پیسے دیتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو اور آرمی چیف کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں بہت لپیٹ کر بات کر رہا ہوں۔ اصل مسئلہ دو شریفوں کے درمیان ہے، ان کو چاہئے کہ آپس میں بیٹھیں اور اسے حل کریں، ویسے تو دونوں کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جس کی ویڈیو لیگ ہو گئی اور معاملہ طے ہونے کے بجائے مزید خراب ہو گئے۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو چاہئے کہ پانامہ لیکس کا معاملہ پارلیمینٹ کے اندر اپوزیشن کے ساتھ مل کر طے کریں اور یہ مت سمجھیں کہ اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے پانامہ لیکس کا معاملہ چلا ہے تو کچھ کالم نگار اور تجزیہ کار یہ بہت دھڑلے سے کہہ رہے ہیں کہ پرائم منسٹر نے مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کی تاہم انہیں انکار کر دیا گیا جبکہ حکومت کہتی ہے کہ ان سے مدت ملازمت میں توسیع مانگی گئی تھی اور ہم نے انکار کر دیا۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں اپنا معاملہ طے کریں اور نواز شریف اپوزیشن کو غیر سیاسی طاقت کی پراکسی مت سمجھیں۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz