عمران کی تیسری شادی کی خبریں بے بنیاد ، خبریں پھیلانے کے لئے لندن میں بیٹھی ریحام بی بی متحرک ،عمران خان کے خاندان ،پارٹی اور دوستوں نے خبروں کو ’’سیاسی سازش ‘‘ قرار دے دیا

13 July 2016

لاہور(خالد شہزاد فاروقی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تیسری شادی کے حوالے سے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں چلنے والی خبروں کے بعد اصل کہانی منظر عام پر آ گئی ،عمران کی مبینہ شادی کے حوالے سے چلنے والی تمام خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں ،ان کی اصل ہی کوئی نہیں ،عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے بھی’’پس پردہ رہتے ہوئے ان خبروں کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ، مانیکا اور وٹو خاندان کی خاتون سے شادی کی خبروں میں بھی کوئی صداقت نہیں ،جبکہ ان کی بہنوں کی جانب سے شادی کے حوالے سے نہ تو کوئی لڑکی یا خاتون کے بارے میں کوئی بات چیت ہوئی ہے اور نہ ہی کسی فیملی  یا خاندان کے ساتھ ’’کپتان ‘‘ کی شادی کے حوالے سے گفتگو چل رہی ہے ۔

 روزنامہ ’’پاکستان ‘‘ نے عمران خان کی فیملی کے انتہائی اندرونی ذرائع سے جب اس حوالے سے جاننا چاہا تو انہوں نے نام شائع نہ کرنے کا وعدہ لیتے ہوئے بتایا کہ ’’زرا سی بات کا افسانہ بنایا گیا ہے ‘‘ وگرنہ عمران خان کی بہنیں تو فوری طور پر اپنے بھائی کو دولہا بنا دیکھنے کی خواہش مند نہیں ہیں ، ذرائع نے دعوی کیا  کہ ایک ماہ قبل لاہور میں ہونے والے ’’فیملی ڈنر ‘‘ میں عمران خان کی بہن جن سے  چیئر مین پی ٹی آئی کی حال ہی میں صلح ہوئی  ہے انہوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ عمران کو ریحام کی شادی کے بعد ایک مرتبہ پھر کوئی لڑکی دیکھ کر تیسری اور’’ آخری ‘‘ بار شادی کا تجربہ کر لینا چاہئے ،جس پر عمران خان نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ میں اب اس طر ح کے ’’تجربے ‘‘ سے گزرنا نہیں چاہتا ،لیکن فیملی کے دیگر ممبران اور عمران کی ایک بھانجی نے بھی اپنی ’’خالہ ‘‘کی تائید کرتے ہوئے جب زیادہ زور دیا تو عمران کا اپنی بہنوں  اور خاندان کے قریبی افراد سے کہنا تھا کہ میں اب خود تو نہیں لیکن آپ کوئی خاتون پسند کر لیں پھر میں فیصلہ کر لوں گا  ، جس کے بعد شادی کی بات آئی گئی ہو گی تھی ۔

عمران خان کی فیملی کے ایک اور اہم ممبر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی یہ والی ’’ شادی‘‘ ایسی انوکھی شادی تھی کہ جس ’’شادی ‘‘ کی خبریں عمران خان کو بھی میڈیا کے ذریعے ہی ملی ہیں ۔انہوں نے میڈیا پر چلنے والی خبروں پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خاتون اور خاندان کا نام لیکر کسی ٹھوس شواہد کے بغیر ٹی وی چینلز پر نام چلانا اور تصاویر دکھانا میڈیا کا انتہائی غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے ،ان خبروں کے پیچھے ایک مخصوص مائینڈ اور ذہنیت کارفرما ہے جو اصل اور حقیقی ایشوز سے عوامی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ۔جب عمران خان کی شادی کے حوالے سے لندن میں موجود عمران خان کے ایک قریبی دوست چوہدری عبد العزیز   سے بات کی گئی تو انہوں نے بھی تیسری شادی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے آج کی تاریخ تک تو شادی نہیں کی بعد میں کر لیں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا،ان کا کہنا تھا کہ ایک نجی چینل کے لندن میں بیورو چیف کے عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان اور شریف فیملی کے ساتھ انتہائی اہم اور قریبی تعلقات ہیں اور وہ آج کل ریحام بی بی کے ساتھ بھی دیکھے جاتے ہیں ،عمران کی شادی کی خبریں اس ’’سہ مکھی تعلقات ‘‘ کا نتیجہ ہے اور ریحام بی بی ’’کسی کے کہنے پر ‘‘پس پردہ رہتے ہوئے ان خبروں کو پھیلانے کے لئے متحرک ہیں۔روزنامہ ’’پاکستان ‘‘ نے جب عمران خان کی شادی کے حوالے سے جہانگیر ترین اور عبد العلیم خان سے رابطہ کیا تو تحریک انصاف کے ان دونوں مرکزی رہنماؤں نے شادی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کا میڈیا سیل عمران خان کے خلاف پوری طرح متحرک ہو چکا ہے ،من گھڑت اور بے بنیاد خبروں کے ذریعے تحریک انصاف کی کرپشن کے خلاف چلائی جانے والی تحریک سے عوامی توجہ ہٹانے کی سازشیں کی جارہی ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ میڈیا سازشوں کو بے نقاب کرتا ہے ،اب میڈیا کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عمران کی تیسری شادی کی بے بنیاد خبروں کے ذریعے سازشیں کر نے والوں کو بھی بے نقاب کرے ۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz