سیاست میں آنا چاہتی ہوں، قندیل بلوچ کا آبائی علاقے میں رابطہ، اویس لغاری کا فون نمبر مانگ لیا

1 July 2016

تونسہ شریف( ویب ڈیسک)متنازعہ امورپر کھلے عام اظہار خیال کرنے اور سوشل میڈیا سے شہرت پانیوالی ماڈل قندیل بلوچ نے سیاست میں آنے کی خواہش ظاہر کردی اور اس سلسلے میں اپنے آبائی علاقے میں رابطہ بھی کرلیا جبکہ قبائلی سردار اویس لغاری کاٹیلی فون نمبر بھی مانگ لیا۔موصوفہ نے لغاری خاندان کیلئے پیغام دیا کہ وہ ایک مفتی کو بے نقاب کرسکتی ہیں تو  وہ بھی ماڈل کیساتھ بنا کر رکھیں ، ان کے کام آسکتی ہیں جبکہ قندیل بلوچ کو جواباً جمشید دستی کیساتھ بھی بنا کر رکھنے کی تجویز دی گئی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق تونسہ میں مقامی وکیل اور پیپلز پارٹی کے صدر سید صفدر عباس شاہ کیساتھ قندیل بلوچ نے فون پر رابطہ کیا  اور  آدھے گھنٹے سے زائد کی  گفتگو   میں ماڈل نے آبائی علاقے ڈیرہ غازی خان سے سیاست میں آنے کی خواہش ظاہرکی اور اپنے خلاف بننے والے مقدمات اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ماڈل کاکہناتھاکہ ملتان اور ڈیرہ غازی خان کا ہر سرائیکی بلوچ ہے، بلوچوں کی شاخیں ہیں کوئی بھی سٹار اپنا نام تبدیل کر سکتا ہے، جتنے بھی ماڈل اور سٹار ہیں وہ اپنا نام تبدیل کئے رکھتے ہیں ، پاکستان میں اس وقت ان کا نام نمبر ون پر آ رہا ہےجس  کی وجہ سے بعض لوگ ہر صورت اپنا نام میڈیا میں دیکھنے کے لئے ایسے کیس دائر کر رہے ہیں۔

قندیل بلوچ نے رابطے میں یہ بھی استفسار کیاکہ  سب مولانا عبدالقوی تو نہیں کرا رہے؟  اخبارات میں سٹوریاں بھی چھپ رہی ہیں  کہ قندیل گھر سے بھاگی تھیں، 13 جولائی کو ہونیوالی پیشی پر وہ بھی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے نہیں جاسکتیں ،  انہیں فائدہ ہے اس کیس کو چلنے دیں یہ میرے حق میں ہے، جتنا میں خبروں میں رہوں گی میرے لئے بہتر ہے،مشہوری ہوگی۔ماڈل نے وکیل سے درخواست کی کہ اگرکبھی بستی شاہ صدر دین کے لوگوں اور تمھاری مجھے ضرورت پڑی تو آپ نے میرا ساتھ دینا ہے ، پوری بستی کے بندے اکھٹے کریں،اگر آپ کو میری ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں اور ساتھ ہی درخواست کی کہ شاہ صاحب آپ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کریں کہ میں قندیل کو جانتا ہوں ،میں شاہ صدر دین سے ہوں۔

موصوفہ نے دعویٰ کیا کہ وہ اس وقت وہ نمبر ون ہیں، ان کے مقابلے میں زیبا بختیار کچھ حیثیت نہیں رکھتیں،یہ بھی  پتہ ہے جتنے بھی میڈیا ریلیٹڈ لوگ ہیں وہ جلتے ہیں، کرنٹ افئیرز ، نیوز ہیڈ لائنز میں آنا ہر بندے کا کام نہیں ، ہر بندہ چاہتا ہے کہ وہ نیوز ہیڈ لائنز میں آئے، بلوچستان اسمبلی، قومی اسمبلی، ہراسمبلی ہر فورم پر میں زیر بحث ہوں ، آج تک کوئی بھی بندی تمام اسمبلیوں میں زیر بحث نہیں رہی جتنی قندیل بلوچ یعنی میں ہو رہی ہوں۔ کل کوئی یہ بھی کہہ سکتاہے کہ قندیل میری منکوحہ ہے۔

صفدر شاہ نے قندیل کو اویس لغاری کاٹیلی فون نمبر دیتے ہوئے تجویز دی کہ اُن سے رابطہ کریں اور درخواست کریں کہ اپنے بندوں کو روکیں جس پر قندیل نے اس سلسلے میں  اویس لغاری سے بات کرنے اور سیاست پر تبادلہ خیال کرنے پر اتفاق کرلیا ، قندیل کہتی ہیں کہ مقامی لوگوں کو شعور نہیں کہ کل میں ان کے کام آسکتی ہوں ، لغاریوں کو مجھ سے بنا کر رکھنی چاہیے میں کل کو ان کے سیاست میں کام آ سکتی ہوں۔میں نے عمران خان کو میسج کیا کہ اگر مجھے  پارٹی میں رکھنا چاہتے ہیں تو وہ ان کی پارٹی جوائین کرنے کو تیار ہیں ۔قندیل کو یہ بھی تجویز دی گئی کہ بلاول سے بھی رابطہ بنانے کی کوشش کریں  لیکن وہ یہ جانتی ہیں کہ صرف ڈیرہ غازی خان سے ہی سیاست میں آسکتی ہیں ، جمشید دستی قومی اسمبلی میں میرا ذکر کر رہے تھے کہ ان کا  مائیک بند کر دیا گیا، پتہ نہیں کیا کہنا چاہ رہے تھے ، ہیڈ لائنز میں آرہا تھا جس میں انہوں نے مجھے بڑے لوگوں پرویز مشرف ، ایان علی میں شمار کیا لیکن ان کی بات پوری نہیں ہونے دی گئی، سپیکرنے روک دیا کہ مطلب کی بات کرو۔

قندیل بلوچ کو بتایاگیا کہ مقدمات کیلئے عدالت میں حاضری کم ازکم ایک دفعہ لازمی ہے ، جج پڑھے لکھے ہیں وہ اس کو سمجھتے ہیں۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz