اغواءکاروں نے ساتھیوں کی رہائی کی بات کی ، جس کمرے میں رکھا گیا وہاں داعش اور ٹی ٹی پی کے بینرز لگے تھے: اویس علی شاہ

21 July 2016

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے صاحبزادے اویس علی شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ اغواءکاروں نے انہیں جس کمرے میں قید رکھا وہاں داعش اور ٹی ٹی پی کے بینرز لگے ہوئے تھے اور اغواءکاروں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کی بات کی ۔

پولیس کو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اغواءکاروں نے انہیں اغواءکرنے کے بعد موبائل فون فوراُُ بند کر دیا اور شناختی کارڈ چیک کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اغواءکاروں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا تم کمال خان ہو تاہم انکار پر انہوں نے میرا شناختی کارڈ چیک کیا ۔اویس علی شاہ نے مزید کہا کہ انہیں اغواءکر کے جس کمرے میں لیجایا گیا وہاں اے سی چل رہا تھا اور اغواءکاروں نے ان سے اپنے ساتھیو ں کی رہائی کے بارے میں کہا ۔
پولیس کو دیے گئے بیان میں بیرسٹر اویس علی شاہ کا کہنا تھا کہ اغواءکار انہیں افطاری کے وقت فروٹ اور پانی دیتے تھے اور نماز پڑھنے سے بھی منع نہیں کرتے تھے ۔ تاہم اویس علی شاہ نے اپنے بیان میں اغواءکاروں کی جانب سے جسمانی تشدد کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ۔

یاد رہے کہ اویس علی شاہ کو 20جون کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک سپر سٹور کے باہر سے اغواءکیا گیا تھا جنہیں منگل کے روز علل صبح سکیورٹی فورسز نے ٹانک کے علاقے میں آپریشن کر کے بازیاب کرایا تھا ۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz