دہشتگردی کے خلاف پاکستان،چین، افغانستان اور تاجکستان کا نیا اتحاد

4 August 2016

اسلام آباد: پاکستان، چین، افغانستان اور تاجکستان نے دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے نیا چار فریقی اتحاد قائم کرلیا اور اس بات کا باضابطہ اعلان چین میں کیا گیا۔

چین کےشہر ارومچی میں ان چاروں ممالک سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے چار فریقی کوآپریشن اینڈ کوآرڈینیشن میکنزم (کیو سی سی ایم) کہلانے والے اس نئے اتحاد کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروس پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ 3 اگست 2016 کو چین کے صوبے سنکیانگ کے شہر ارومچی میں انسداد دہشتگردی کیلئے قائم کیو سی سی ایم کا افتتاحی اجلاس ہوا جس میں پاکستان، چین، افغانستان اور تاجکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس میں افغان نیشنل آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف قدم شاہ شمیم، محکمہ سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف جنرل فانگ فینگوہی، پاک فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور تاجکستان کے چیف آف جنرل اسٹاف اور فرسٹ نائب وزیر دفاع میجر جنرل ای اے کوبڈزوڈا شریک ہوئے۔

کیو سی سی ایم کا قیام دراصل چین کا منصوبہ تھا تاہم اس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی فعال کردار ادا کیا۔

جنرل راحیل شریف اس حوالے سے بات چیت کے لئے مارچ کے مہینے میں افغانستان اور تاجکستان گئے تھے، جب وہ کابل پہنچے تو وہاں اتفاقیہ طور پر جنرل فانگ بھی موجود تھے جو اسی اتحاد کے سلسلے میں وہاں موجود تھے۔

کیو سی سی ایم کا اجلاس ختم ہونے کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشتگردی اور شدت پسندی خطے کی سلامتی اور استحکام کیلئے خطرہ ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اتحاد میں شامل چاروں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی سلامتی،استحکام اور قیام امن کیلئے دہشتگردی سے نمٹنے میں تعاون کریں گے۔

اس معاہدے کے تحت چاروں ممالک انسداد دہشتگردی کی صورتحال کے جائزے، معلومات کی تصدیق، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، انسداد دہشتگردی کیلئے صلاحیتوں میں اضافے، مشترکہ تربیتی مشقیں اور فوجیوں کی تربیت کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔

اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ کیو سی سی ایم اتفاق رائے سے اپنا کام کرے گا اور یہ بات واضح کردی گئی کہ یہ اتحاد کسی ملک یا بین الاقوامی تنظیم کے خلاف نہیں ہے۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz