انڈیا میں لاکھوں کا خاموش جلوس کیوں؟

06 October 2016

گذشتہ چھ ہفتوں میں دسیوں لاکھ لوگ بڑی خاموشی سے انڈین ریاست مہاراشٹر کے طول و عرض میں جلوس نکال رہے ہیں۔

یہ ایک انوکھا احتجاج ہے، ان خاموش مظاہرین کا کوئی رہنما نہیں ہے، اور ان میں کسانوں سے لے کر پروفیشنل تک شامل ہیں۔ کئی جلوسوں کی قیادت عورتیں کر رہی ہیں۔ سیاست دانوں کو ان پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

ایک مبصر کا کہنا ہے کہ انڈیا خاموشی کی آواز کو نظرانداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

جلوس

یہ مظاہرین مرہٹہ ذات سے تعلق رکھتے ہیں، جسے انڈیا کی سب سے پرفخر اور خودپسند ذات سمجھا جاتا ہے۔ ان کی اکثریت کھیتی باڑی کرتی ہے اور یہ مہاراشٹر کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں۔

مہاراشٹر کا شمار انڈیا کی نسبتاً مالدار ریاستوں میں ہوتا ہے، جہاں ایک طرف تو بالی وڈ ہے، تو دوسری طرف یہ ریاست کارخانوں اور فارموں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ تاہم اسی ریاست کے بعض حصوں میں سخت غربت بھی پائی جاتی ہے۔

ان خاموش جلوسوں کا سلسلہ جولائی میں اس وقت شروع ہوا جب نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والے تین دلت مردوں نے مبینہ طور پر ایک مرہٹہ لڑکی کو ریپ کیا تھا۔ اس کے بعد مطالبات کی فہرست میں کالجوں اور سرکاری نوکریوں میں کوٹا اور 27 سال پرانے ایک وفاقی قانون کی منسوخی بھی شامل ہو گئے جس کے تحت دلتوں اور قبائلیوں کو نسلی تحفظ حاصل ہے۔

ایسے 20 سے زائد جلوسوں کے بعد خاموش مظاہرین اکتوبر کے آخر میں ریاست کے دارالحکومت ممبئی کا رخ کریں گے۔ توقع ہے کہ اس موقعے پر ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد جمع ہوں گے اور اس طرح یہ انڈیا کی تاریخ کا بڑا احتجاجی مظاہرہ بن جائے گا۔

کسانکسانوں کی زمین گھٹتی جا رہی ہے اور موسم میں تبدیلی سے وہ فاقوں کے دہانے تک پہنچ جاتے ہیں

اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے مرہٹوں کو کئی شکایات ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ دلتوں اور دوسری نچلی ذاتوں کے تحفظ کا قانون دراصل اونچی ذات والوں کو ہدف بنانے کا بہانہ ہے جس کے تحت ان پر جھوٹے مقدمے قائم کیے جاتے ہیں۔

لیکن یہ دعویٰ مکمل طور پر حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ دلت اور قبائلی مہاراشٹر کی آبادی کا 19 فیصد ہیں، لیکن ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس ان کے خلاف صرف ایک فیصد پولیس مقدمے درج ہوئے۔ اس کے علاوہ وفاقی قانون صرف 40 فیصد کیسوں پر لاگو ہوتا ہے۔

سماجی بےچینی

اس شکایت کے پیچھے اصل وجہ کچھ اور ہے، اور وہ ہے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں نچلی ذاتوں کا کوٹا۔

مہاراشٹر کے خاموش مظاہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کو کئی مسائل کا سامنا ہے جنھیں حل نہ کیا گیا تو اس سے بڑے پیمانے پر سماجی بےچینی پھیلے گی۔

عدم مساوات اور برسوں کی اقرباپروری کی وجہ سے وہاں طاقت اور دولت صرف چند گنے چنے افراد کے ہاتھوں میں مرکوز ہو کر رہ گئی ہیں۔

مثال کے طور پر ریاست کے کالجوں، کوآپریٹیو بینکوں اور چینی کے کارخانوں کی اکثریت کے مالکان سیاست دان ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق ریاست کے 70 فیصد فارموں کے مالک صرف تین ہزار خاندان ہیں۔ ریاست کے 18 وزیرِ اعلیٰ مرہٹہ تھے، جب کہ ریاستی اسمبلی کے نصف ارکان کا تعلق بھی اسی ذات سے ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام مرہٹے ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں پڑھے لکھے مالدار زمینداربھی ہیں اور چھوٹے کسان اور غریب مزدور بھی۔ ایک اندازے کے مطابق تہائی مرہٹہ کسانوں کے پاس زمین نہیں ہے۔

محرومی

نچلے اور متوسط طبقوں سے تعلق رکھنے والے مرہٹے سمجھتے ہیں کہ انھیں الگ تھلگ کر کے نظرانداز کیا جا رہا ہے، اور انھیں نوکریوں اور تعلیمی اداروں سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ آبادی بڑھنے سے ان کے کھیتوں کا رقبہ گھٹتا جا رہا ہے اور اگر کبھی بارشیں معمول سے کم ہوں تو بھوک ان کسانوں کے دروازوں پر دستک دینے لگتی ہے۔

یہ خاموش جلوس اسی بحران پر روشنی ڈالنے اور سماجی اور سیاسی دھارے کو گروپ کی شناخت اور وفاداریوں کی مدد سے متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔

ماہرِ عمرانیات پروفیسر آندرے بیٹیل کہتے ہیں: ‘مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب رشتہ داریوں اور برادریوں کو آئینی حکومت کے مطالبات کو پسِ پشت ڈالنے کا موقع مل جاتا ہے۔’

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انڈیا کے کوٹا سسٹم میں شدید سقم موجود ہیں۔

اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ دلت اور دوسری نچلی ذاتوں کو اس سے فائدہ ہوا ہے لیکن اس نظام کی دوسری ذاتوں تک توسیع سے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

کوئی ریاست کس حد تک کوٹا سسٹم کا بوجھ اٹھا سکتی ہے؟

انڈیا کو سماجی بےچینی سے بچنے کے لیے ملازمتوں اور ملازمین کی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ دوسری صورت میں مہاراشٹر کے خاموش احتجاجی زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہیں گے۔

Source. BBC News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz