جرمنی سب سے پہلے 5جی ٹیکنالوجی لانے کا خواہشمند

27 September 2016

جرمنی دنیا بھر میں 5جی موبائل نیٹ ورک ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے والا پہلا ملک بننا چاہتا ہے۔

ایک جرمن اخبار فرینکفرٹر الگیمانیہ زیتونگ (ایف اے ذی) کے مطابق ڈیجیٹل انفرا سٹرکچر کے نائب الیگزینڈر ڈوبرینٹ نے کہا کہ 5 جی نیٹ کے لیے ہائی بینڈوڈتھ کی ضرورت ہے جو مستقبل میں سیلف ڈرائیونگ کارز، میڈیکل وغیرہ جیسی ٹیکنالوجی کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے اخبار کو مزید بتایا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ جرمنی وہ پہلا ملک کو جو دنیا میں 5جی ٹیکنالوجی کو متعارف کروائے اور اس کا نیٹ ورک سب سے پہلے ہمارے پاس موجود ہو‘۔

5جی ٹیکنالوجی اس وقت دنیا بھر میں استعمال ہونے والی 4جی سروس سے 10گنا تیز ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق جرمنی کی وزارت نے 2025 تک اپنے 20 بڑے شہروں میں 5جی ٹیکنالوجی لانے کیلئے پانچ نکاتی حکمت عملی کے پیپر تیار کرلیے ہیں، 2018 میں اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا جس کے بعد عین ممکن ہے کہ 2020 تک جرمنی دنیا میں 5جی کی ٹیکنالوجی متعارف کروا دے۔

واضح رہے کہ جرمنی وہ واحد ملک نہیں جس نے سب سے پہلے دنیا میں 5جی ٹیکنالوجی متعارف کروانے کا دعویٰ کیا ہو، اس سے قبل چین، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ 2020 تک دنیا میں 5جی سروس متعارف کروائیں گے۔

فائیو جی ہے کیا؟

اگرچہ ماہرین ابھی بھی واضح نہیں کہ فائیو جی کا اصل مطلب کیا ہے، مگر یہ واضح ہے کہ یہ ٹیکنالوجی گیم چینجر ثابت ہوگی، جو سیکنڈوں میں ڈیٹا کی بڑی مقدار ڈاﺅن کرنے کی سہولت صارفین کو فراہم کرے گی۔

فائیو جی کی رفتار کے بارے میں توقع ہے کہ وہ ایل ٹی ای ڈیٹا ٹرانسفر اسپیڈ سے ایک ہزار گنا زیادہ تیز ہوگی، چین نے اس حوالے سے نمونے کی آزمائش کی ہے جس میں ڈیٹا ٹرانسفر اسپیڈ 3.5 جی بی پی ایس رہی۔

فائیو جی سروسز ملی میٹر ویو کی بنیاد پر کام کرے گی۔

 Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz