’جراثیم ہر تین سیکنڈ میں ایک ہلاکت کا باعث ہوں گے‘

19 May 2016

ایک انتہائی بااثر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک ’سپر بگ‘ جراثیم ہر تین سیکنڈ میں ایک انسان کو ہلاک کر رہے ہوں گے۔

سپر بگ ایسے جراثیم کو کہا جاتا ہے جن کے خلاف متعدد اقسام کی اینٹی بایوٹکس اثر نہیں کرتیں۔

اس عالمی تجزیے میں جدید طب کو ’تاریک دور‘ میں واپس لوٹنے سے بچانے کے لیے ایک منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جس پر اربوں ڈالر کا خرچ اٹھے گا۔

اس میں اینٹی بایوٹک ادویات کے استعمال میں بڑی تبدیلی اور لوگوں کو آگہی دینے کے لیے بڑے پیمانے پر مہم شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ پر آنے والا ردِ عمل ملا جلا ہے اور بعض حلقوں کے مطابق یہ ناکافی ہے۔

دنیا اینٹی بایوٹک ادویات کے خلاف مدافعت رکھنے والے جراثیم کے خلاف جنگ تیزی سے ہار رہی ہے، اور اس سے لاحق خطرے کو ’دہشت گردی جتنا بڑا خطرہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف تو سائنس دان نئی اینٹی بایوٹکس نہیں بنا رہے، تو دوسری جانب موجودہ ادویات کو غلط طریقے سے استعمال کر کے انھیں ضائع کیا جا رہا ہے۔

2014 کے وسط سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ لوگ اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت رکھنے والے جراثیم کا شکار ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹروں کو معلوم ہوا ہے کہ اب جراثیم آخری حربے کے طور پر استعمال کی جانے والی اینٹی بایوٹک کولسٹین کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ اس سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ دنیا ’مابعد اینٹی بایوٹک دور‘ کی جانب بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

حالیہ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتِ حال بگڑتی چلی جائے گی اور 2050 تک سالانہ ایک کروڑ لوگ مدافعتی جراثیم کا نشانہ بن رہے ہوں گے۔

 

مزید یہ کہ ادویات کے خلاف مدافعت کی وجہ سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ ایک ہزار کھرب ڈالر ہو گا۔

رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے:

.فوری عالمگیر آگہی مہم شروع کی جائے جس میں لوگوں کو خطرے سے روشناس کروایا جائے –
.ابتدائی تحقیق کے لیے دو ارب ڈالر کا فنڈ قائم کیا جائے –
.صاف پانی کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی، اور صاف ہسپتالوں کی دستیابی یقینی بنائی جائے –
.زراعت میں استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس پر فوری پابندی لگا دی جائے –
.ادویات کے خلاف مدافعت کے پھیلاؤ کی نگرانی بہتر بنائی جائے –
.کمپنیوں کو ہر نئی اینٹی بایوٹک کی دریافت پر ایک ارب ڈالر دیے جائیں –
ایسے نئے ٹیسٹ وضع کرنے پر مالی انعام دیا جائے جن کی مدد سے اینٹی بایوٹکس کے بےجا استعمال کو روکا جا سکے –
.ویکسین اور متبادل ادویات کے استعمال میں اضافہ کیا جائے

اس عالمی تجزیے کے سربراہ لارڈ جم اونیل نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں دنیا بھر میں لوگوں کو مختلف طریقوں کی مدد سے آگہی دینے اور یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اینٹی بایوٹکس کو ٹافیوں کی طرح نہیں استعمال کرنا چاہیے۔

’اگر ہم یہ مسئلہ حل نہیں کر پائے تو ہم تاریک دور میں واپس چلے جائیں گے، اور بہت سے لوگ مریں گے۔‘

Source. BBC Urdu News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz