بہت زیادہ پانی پینا کس حد تک نقصان دہ؟

28 September 2016

پانی پینا صحت کے لیے ضروری ہے یعنی جسم کے تقاضوں کے مطابق یہ سیال ماہرین طب بہت اہم قرار دیتے ہیں تاکہ جسمانی افعال درست طور پر کام کرسکیں۔

مگر اس وقت کیا ہو جب کوئی شخص بہت زیادہ پانی پینا شروع کردے ؟

اوور ہائیڈریشن بھی ڈی ہائیڈریشن کی طرح خطرناک ہوتی ہے اور بہت زیادہ پانی پینا جسمانی خلیات میں سوڈیم کی سطح کم کر دیتا ہے۔

متلی اور قے ہونا

بہت زیادہ پانی پینے کی شکل میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ پانی کی کمی جیسی ہی ہوتی ہیں، ایک تحقیق کے مطابق بہت زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں گردے اس اضافی سیال کو خارج کرنے سے قاصر ہوجاتا ہے اور پانی جسم میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ناخوشگوار علامات سامنے آسکتی ہیں جیسے قے، متلی اور ہیضہ وغیرہ۔

دن بھر سردرد

سر درد بہت زیادہ پانی پینے یا کم پانی پینے کی علام ہوسکتی ہے، جب کوئی شخص بہت زیادہ پانی پیتا ہے جو خون میں موجود نمک کی سطح گھنٹے لگتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی اعضاءسوجنے لگتے ہیں، اس کی وجہ خلیات کا بڑھنا ہوتا ہے۔ زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں دماغ کا حجم بھی بڑھتا ہے جس سے سر پر دباﺅ بڑھتا ہے جو سردرد کی شکل میں نکلتا ہے، جو مختلف سنگین امراض جیسے دماغی عدم توازن اور سانس لینے میں مشکل کا باعث بن سکتے ہیں۔

ہاتھ، ہونٹ اور پیر سوجنا

زیادہ پانی پینے کے نتیجے میں لوگوں کے ہاتھوں، ہونٹوں اور پیروں کے سوجنے کی علامت بھی سامنے آسکتی ہے، اس کی وجہ بھی خلیات کا بڑھنا ہوتا ہے جبکہ پانی کا اپنا وزن بھی جسم کو پھولنے پر مجبور کردیتا ہے، اگر آپ دن بھر میں دس سے زائد گلاس پانی پیتے ہیں اور ہاتھوں پیروں میں سوجن کا سامنا ہوتا ہے تو اس سیال کی مقدار میں کمی لائیں۔

کمزور مسلز

صحت مند اور مکمل طور پر فعال جسم کے توازن بہت ضروری ہے، جب آپ بہت زیادہ پانی پیتے ہیں تو جسمانی توازن میں کمی آتی ہے، جس کی وجہ جسم میں الیکٹرو لائٹ کی سطح کم ہوتی ہے جس سے مسلز کمزور اور جلد اکڑ جاتے ہیں۔

تھکاوٹ یا سر چکرانا

گردے جسم میں پانی کو فلٹر کرنے کا کام کرتے ہیں اور خون میں سیال کی سطح متوازن رکھتے ہیں، مگر جب پانی بہت زیادہ پیا جاتا ہے تو گردوں کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں جسم میں ہارمونز متاثر ہوتے ہیں اور جسمانی تھکاوٹ ہر وقت طاری رہنے لگتی ہے، اگر آپ کو بستر سے اٹھنے میں مشکل کا سامنا کرتے ہیں تو اس کی ممکنہ وجہ اپنے گردوں پر غیر ضروری دباﺅ بڑھانا ہوسکتا ہے۔

 Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz