مرد ڈاکٹر کے پاس جانے سے گھبراتے کیوں ہیں؟

15 June 2016

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اکثر و بیشتر بیوی کے مقابلے میں شوہر کا انتقال پہلے ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ مردوں کی اوسط عمر خواتین سے کم ہے ۔

تاہم امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق مردوں کی جلد موت کی مختلف وجوہات ہیں جیسے زیادہ خطرات مول لینا، سماجی طور پر دیگر افراد سے زیادہ گھلنے ملنے سے گریز اور خواتین کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ملازمتیں وغیرہ۔

مگر ایک بہت سادہ اور عام وجہ جو ہے جس پر قابو پانا بھی مشکل نہیں وہ یہ کہ مرد ڈاکٹروں کے پاس جانا پسند نہیں کرتے یا خواتین کے مقابلے میں بہت کم جاتے ہیں۔

یو اسی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ایک سروے کے مطابق ڈاکٹروں سے رجوع کرنے والوں میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتی ہے۔

اسی طرح مرد حضرات اکثر 5 سال تک بھی کسی ڈاکٹر کے پاس اپنا طبی معائنہ کرانے کے لیے نہیں جاتے بلکہ ایسے مردوں کی تعداد بھی کم نہیں جنھوں نے بالغ ہونے کے بعد کبھی کسی ڈاکٹر یا طبی ماہر سے رابطہ کیا ہو۔

اورلینڈو ہیلتھ ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آخر مرد ڈاکٹروں کے پاس جانے سے گھبراتے کیوں ہیں۔

تحقیق کے مطابق کام کی مصروفیات، کسی بڑی گڑبڑ کے دریافت ہونے کا خوف، جسمانی معائنہ کرانے پر عدم اطمینان، ڈاکٹروں کے پوچھے جانے والے سوالات اور دیگر وجوہات مردوں کو ڈاکٹروں سے ڈراتی ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 18 سے 39 سال کے عمر کے افراد کو ہر 2 سال بعد اپنا بلڈ پریشر چیک کروانا چاہئے اور زیادہ خدشہ ہو تو یہ چیک اپ ہر سال ہونا چاہئے۔

35 سال سے زائد عمر کے افراد کو ہر پانچ سال بعد کولیسٹرول اور امراض قلب کی اسکریننگ کرانی چاہئے، اگر ذیابیطس کے شکار ہو تو یہ چیک اپ اکثر ہونا چاہئے۔

اسی طرح 45 سال کی عمر کے افراد کو ہر 3 سال بعد ذیابیطس کی اسکریننگ کرانی چاہئے تاہم موٹاپے کے شکار افراد کم عمری سے ہی یہ چیک اپ کروانا چاہئے۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz