بغداد میں 2خودکش حملے،121افراد ہلاک،200سے زائد زخمی،مشتعل مظاہرین کی عراقی وزیر اعظم کی آمد پر احتجاج ،داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

4 July 2016

بغداد(نیوز ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں لگی آ گ کسی صورت بجھتی دکھائی نہیں دے رہی،عید سے چند دن پہلے پیش آنے والے تازہ ترین واقعہ میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں یکے بعد دیگرے دو خود کش حملوں میں کم از کم 121افراد جاں بحق جبکہ 200سے زائد زخمی ہو گئے ہیں ،ان دونوں حملوں کی ذمہ داری عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کر لی ہے ۔عراقی حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس میں اضافہ کے خدشہ کا بھی اظہار کیا ہے,حکام اور میڈیا کے مطابق دھماکے دارالحکومت کے مصروف ترین بازار میں ہوئے ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراقی دارالحکومت بغداد کے وسط میں اہل تشیع مسلک کی اکثریت والے علاقے اور انتہائی مصروف ترین  شاپنگ سینٹر کے باہر ایک خود کش حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک اڑا دیا ،انتہائی خوفناک دھماکے سے 100سے زائد افراد ہلاک جبکہ 180سے زائد افراد زخمی ہو گئے ۔جاں بحق ہونے والوں میں 15بچے،10خواتین اور 8پولیس اہلکار بھی شامل ہیں ۔

خود کش حملہ آور نے اس وقت حملہ کیا جب لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عید کی خریداری کے لئے مارکیٹ آئے ہوئے تھے ۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر جانی نقصان شاپنگ مال اور تفریحی ایریا میں ہوا جہاں لوگ کی بڑی تعداد موجود تھی ،جبکہ درجنوں لوگ دم گھٹنے اور آگ سے جھلس کر موت کی آغوش میں چلے گئے ۔خود کش حملے کے ایک عینی شاہد اور مارکیٹ کے قریب میں ریڑی لگانے والے شخص عبد الکریم کا کہنا ہے کہ یہ خود کش حملہ زلزلے جیسا تھا ،میں نے جیسے ہی اپنا سامان سمیٹا اور گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ ایک دھماکہ ہوا ،جس سے ہر چیز الٹ پلٹ ہو گئی ،یہ زلزلے جیسا تھا ،خوفناک آواز کے ساتھ میں نے آگ کا ایک بڑا بگولہ دیکھا جو بہت ہی خوفناک تھا ،میں نے دھماکے والی جگہ موجود اپنے کئی دوستوں کو فون کیا مگر کوئی جواب نہیں آیا ،کریم کا کہنا تھا کہ اس کے کئی جاننے والے اس دھماکے میں مارے گئے جبکہ کئی ایک زخمی اور کئی لاپتا ہیں ۔

دوسری طرف دھماکے کے کچھ دیر بعد دہشت گرد تنظیم ’’داعش ‘‘ نے خود کش حملہ کرنے کا دعوی کرتے ہوئے آن لائن ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ اس نے شیعہ مسلک کے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے، جس مارکیٹ کے باہر دھماکہ ہوا ،اس کے قرب و جوار کی کئی عمارتیں بھی شدید متاثر ہوئیں جبکہ دور دراز کی پارکنگ ایریا میں کھڑی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں ۔دوسرا حملہ بغداد کے شمالی علاقے میں ہوا، ایک پولیس افسر کے مطابق یہاں ایک آئی ای ڈی دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 افراد زخمی ہو گئے۔اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے نہیں لی ہے، پولیس اور ہسپتال کے حکام نے ہلاک ہوئے لوگوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔حملے کے چند گھنٹے بعد عراق کے وزیر اعظم حیدر جواد خادم الا آبادی اور ممبران پارلیمنٹ نے دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا،سوشل میڈیا پرشیئر ہونے والی ویڈیو فوٹیج میں مشتعل ہجوم نظر آ رہی ہے، جس میں مشتعل لوگ عراقی وزیر اعظم حیدر جواد کے خلاف شدید نعرے بازی اور ان کو چور کہہ رہے ہیں اور ان کے قافلے کے سامنے چیخ و پکار کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ یہ دھماکے گذشتہ دنوں عراقی افواج کی جانب سے فلوجہ شہر کو دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے چھڑوانے کے بعد ہوئے ہیں۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz