مردوں کی بے وفائی سے خواتین کے مستقبل پر اچھے اثرات پڑتے ہیں:تحقیق میں انکشاف

5 May 2016

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )شوہر اور محبوب کی بے وفائی کا دکھ جھیلنے والی خواتین کو سائنس نے بڑی خوشخبری سنا دی۔محبت میں دھوکہ کھانے والے لوگوں کو ناکام سمجھا جاتا ہے لیکن ایک تحقیق کے دوران ماہرین نفسیات اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جیون ساتھی کی بے وفائی کا دکھ جھیلنے والی عورت کی آخر میں جیت ہوتی ہے کیونکہ وہ مستقبل میں زیادہ پائیدار ازدواجی رشتہ قائم کرتی ہیں۔

اگرچہ جیون ساتھی یا محبوب کی بے وفائی کا تجربہ ایک گہرا دکھ ہوتا ہے لیکن ماہرین نفسیات کے مطابق مردوں کی بے وفائی کے عورتوں کے مستقبل پر اچھے اثرات پڑتے ہیں۔

تحقیق بتاتی ہے کہ ایک بے وفا مرد کا عورت کی زندگی سے جانا اس کے فائدے کے لیے ہوتا ہے کیونکہ اس طرح وہ مستقبل میں اپنے لیے ایک با وفا جیون ساتھی تلاش کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔
امریکہ کی بنگ ھمپٹن یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر کریگ مورث نے کہا کہ ہمارا مقالہ اس عورت پر ہے جو کسی دوسری عورت کی وجہ سے اپنے ساتھی سے محروم ہو جاتی ہے۔

وہ پرانے رشتے سے ملنے والے غم اور فریب کو ایک عرصے تک بھول نہیں پاتی لیکن یہی جذباتی آزمائش کا دور اسے دانائی کا سبق سکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے لیے ایک بہتر جیون ساتھی کا انتخاب کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔اس طرح وہ طویل مدتی پیار کے رشتے میں ‘فاتح’ بن کر ابھرتی ہے۔

اس کے برعکس مرد کی زندگی میں آنے والی نئی عورت ایک ایسے شخص سے وابستہ ہے جو پہلے کسی سے بے وفائی کرچکا ہے اور اس میں دوبارہ بے وفائی کے امکانات ہیں لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے اس عورت کی طویل مدتی رشتے میں ’ہار‘ ہوتی ہے۔

وی او اے کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اگر جیون ساتھی تلاش کرنا اور رشتوں کو نبھانا ہمارا ارتقائی رویہ ہے تو اس بات میں بھی منطق نظر آتی ہے کہ وہاں تعلقات ٹوٹنے پر غم سے ابھرنے کیلئے برداشت کا کوئی ارتقائی میکانزم اور ردعمل ہو گا۔

تحقیق کاروں نے ایک گمنام آن لائن جائزہ لیا ہے جس میں دنیا بھر سے 96 ممالک سے تعلق رکھنے والے مختلف ثقافتوں اور تمام عمر کے 5,705 افراد نے حصہ لیا تھا۔محققین نے اپنے جائزے میں دیکھا کہ شرکاءتعلقات ٹوٹنے کے دوران، اس کے بعد اور اس سے پہلے کتنے خوش تھے۔جمع کئے جانے والے اعدادوشمار کے نتائج سے پتا چلا کہ عورتوں کے درمیان پیار کے رشتے میں مقابلے کا ناصرف ان کی ذاتی شخصیت کی ترقی پر اثر ہوتا ہے بلکہ یہ ارتقائی نقطہ نظر سے بھی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا تھا۔محقق کریگ مورث نے کہا کہ نتائج سے پتا چلا کہ عورتیں واضح طور پر رشتہ ٹوٹنے کے بعد مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر حالت میں تھیں۔

یہ تحقیق’ آکسفورڈ ہینڈ بک آف وومن اینڈ کمپیٹیشن’ نامی جریدہ میں شائع ہوئی ہے۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz