اختتام تک دیکھنے پر مجبور کرنے والی 10 فلمیں

17 October 2016

ایک بہترین فلم وہی ہوتی ہے جو ابتداء سے ہی آپ کے اعصاب پر چھا جائے اور آپ کو اپنا گرویدہ بنالے۔

کچھ فلمیں اس طرز پر بنائی جاتی ہیں کہ جب تک آپ اُن کو اختتام تک نہ دیکھ لیں، آپ کو مزہ نہیں آتا۔

ہر فلم کی کہانی اپنے اندر ایک منفرد پیغام لیے ہوئے ہوتی ہے جو کہ بلواسطہ یا بلاواسہ کسی نہ کسی کی زندگی سے کسی طرح سے متاثر ہوئی ہوتی ہے۔

ان کہانیوں میں روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات اور ظلم و ستم کو پیش کیا جاتا ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مستقل مزاجی اور حاضر دماغی سے حالات کا مقابلہ کرکے انھیں اپنے مطابق کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

ذیل میں دی گئی فہرست میں آپ کو کچھ ایسی ہی فلموں کے بارے میں بتایا جائے گا جو کہ دیو مالائی اور سپر ہیروز پر مبنی فلموں سے بالکل مختلف ہیں مگر ان میں اداکاروں اور ہدایت کاروں کی مہارت، لگن اور جنون کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جن میں زندگی سے ناامید اور اکتائے ہوئے لوگوں کے لیے پیغام ،راہ نمائی اور امید کی کرن ہے۔

(DJANGO UNCHAINED – 2012)

پبلسٹی فوٹو

یہ امریکی خانہ جنگی سے کچھ سال قبل ایک سیاہ فام غلام اور اُس کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے ظلم و ستم اورپھر اُس کے شاندار اور سفاکانہ انتقام کی کہانی ہے۔ ہدایت کار کوئنٹن ٹورنٹینو کی بہترین ہدایت کاری اور قلم کاری کا نمونہ! کوئنٹن ٹورنٹینو کی ہدایت کردہ فلموں میں پلپ فکشن، کِل بِل سیریز، فرام ڈسک ٹِل ڈان سیریز اور ڈسپریڈو جیسی سپر ہٹ فلمیں شامل ہیں۔

اس فلم میں اداکار جیمی فوکس نے 1858 کے ایک زرخرید سیاہ فام غلام کا کردار ادا کیا ہے جسے ایک پراسرار سابقہ جرمن ڈینٹسٹ مزید 4 غلام ساتھیوں سمیت اُن کے مالک سے آزاد کراتا ہے اور دونوں سیاہ فام کی بیوی کو ایک نفرت انگیز ظالم اور انتہاہی کٹر نسل پرست حاکم (لیونارڈو ڈیکپریو) کی قید سے آزادی دلانے نکل پڑتے ہیں۔ دونوں گہرے دوست بن جاتے ہیں اور جرمن ڈینٹسٹ سیاہ فام غلام کو ایک تربیت یافتہ اور انتہائی سفاک قابل بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ پھر وہیں سے خون اور موت کا شیطانی کھیل شروع ہوتا ہے۔ سیموئل ایل جیکسن نے بھی اس فلم میں ایک نا قابل فراموش اداکاری کی ہے جو کہ قابل دید ہے۔

Man on Fire (2004)

پبلسٹی فوٹو

ٹونی سکاٹ کی ہدایت کردہ اس فلم میں ڈینزل واشنگٹن نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ میکسیکو شہر میں جب تاوان کے لیے چھوٹی بچیوں کے اغواء کا سلسلہ عروج پر پہنچ جاتا ہے تو تمام مالی طور پر مستحکم والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے تنخواہ دار باڈی گارڈ رکھ لیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک امیر سرمایہ دار اپنی 9 سالہ اکلوتی بیٹی کی حفاظت کے لیے سی آئی اے کے ایک سابقہ پروفیشنل کو کام پر رکھ لیتا ہے۔ ابتدا میں باڈی گارڈ کو اپنے کام سے نفرت ہونے لگتی ہے مگر کچھ ہی دن میں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مانوس ہوجاتے ہیں اور اُسے جینے کا ایک مقصد مل جا تا ہے۔ کہانی اُس وقت دلچست موڑ لے لیتی ہے جب اغواہ کار ایک کامیاب حملے میں بچی کو اغوا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور باڈی گارڈ کو متعدد گولیوں کا نشانہ بناکر زخمی کردیتے ہیں، لیکن زخموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ اغوا کاروں کو سبق سکھانے آخری حد تک چلا جاتا ہے۔

The Way Back (2010)

پبلسٹی فوٹو

اس فلم میں ایک سائبیرین جیل خانے سے فرار قیدی کی چار ہزار میل پیدل چلنے کی لازوال رُودار بیان کی گئی ہے، جسے 1939 میں پولینڈ پرسوویت یونین کے حملے کے دوران گرفتاری اور تشدد کے بعد سائبیریا کی ایک جیل میں ڈال دیا گیا اور پھر وہ قیدیوں کے ایک گروہ کی مدد سے جیل توڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ اس گروہ کا سربراہ بھی ہوتا ہے اور پھر اُس کی سربراہی میں سب لوگ سائبیریا کے یخ بستہ جنگلوں، پہاڑوں اور دریاؤں سے ہوتے ہوئے جنوب کی راہ لیتے ہیں اور منگولیا، صحرائے گوبی سے ہوتے ہوئے ہمالیہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ راستے میں ایک پولش لڑکی بھی قافلے کے ہمراہ ہولیتی ہے اور پھر بھوک، افلاس، بیماری اور درد کا سفر جاری رہتا ہے۔ سفر کی دشواریاں برداشت نہ کرتے ہوئے لڑکی سمیت چار مسافر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں لیکن اُن میں سے چار برطانیہ کے زیر انتظام ہندوستان تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

SAFE (2012)

اسکرین شاٹ

یہ فلم ایک چینی نژاد لڑکی کی کہانی پر مبنی ہے، جو ہندسے یاد کرنے میں ایک کمپیوٹر کی طرح ماہر ہے۔ ایک چینی گینگ کا باس اُسے اغوا کروا کے اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے چائنہ ٹاؤن نیویارک منتقل کروا دیتا ہے اور لڑکی کی بے مثال یادداشت کی بناہ پر وہ اُسے ایک کوڈ یاد کروادیتا ہے۔ پھر اُس لڑکی کو روسی مافیا والے چینی غنڈوں سے اغوا کروا لیتے ہیں مگر وہ روسی مافیا کے چنگل سے بھی نکل بھاگتی ہے۔ چینی مافیا اورروسی مافیا نیو یارک کی کرپٹ پولیس کی مدد سے لڑکی کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور لڑکی بھاگ کر ایک سابقہ فائیٹر(لوک رائٹ) سے مدد طلب کرتی ہے جس کی بیوی کو روسی مافیا والے پہلے ہی قتل کرچکے ہوتے ہیں۔ وہ لڑکی کی حفاظت پر مامور ہوجاتا ہے اور اسی دوران اُس پر انکشاف ہوتا ہے کہ لڑکی نے جو کوڈ حفظ کیا ہے وہ ایک تجوری کا کوڈ ہے جس میں 3 کروڑ ڈالر رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں اپنی ذہانت، بہادری اور مہارت سے مافیا اور پولیس کو شکست دے کر 3 کروڑ ڈالر کے مالک بن جاتے ہیں۔ فلم کا نان سٹاپ ایکشن آپ کو قطعا بور ہونے نہیں دے گا۔

Interview with a Hitman (2012)

پبلسٹی فوٹو

اس فلم کا پیغام ہے، کسی پر بھروسہ نہ کرو۔ کچھ بھی محسوس نہ کرو۔ کبھی شکست نہ کھاؤ۔ اسی منتر کے ذریعے اپنے پیشے کی سربراہی کے لیے ایک بے رحم مشرقی یورپی قاتل کو عروج ملا۔ رومانیہ کی تلخ کچی آبادیوں میں پلے بڑھے، وکٹر کو زندگی کی قیمت زیادہ معلوم ہے، یہی خوبی تو اُسے ایک کامل قاتل بنا دیتی ہے۔ لیکن جن لوگوں نے اُسے تربیت دی اور پروان چڑھایا جب وہی اُسے دھوکہ دینے لگے تو اپنی جعلی موت کا ڈراما کرکے اسے لندن فرار ہونا پڑا. یہاں آکر وہ ایک نئے گینگسٹر خاندان میں شامل ہو جاتا ہے اور اسے دوبارہ ایک شیطانی انڈرورلڈ اقتدار کی کشمکش کے درمیان میں امتحان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہاں وکٹر پہلے سے کہیں زیادہ سفاک، تیز اور زیادہ بے رحم ثابت ہوتا ہے۔ اپنے ماضی کے اثر کو زائل کرنے کے خواب کے ساتھ اُس کا سامنا ایک سانولی دوشیزہ سے ہوتا ہے اور پھر اُس کی دنیا بدل جاتی ہے اور وہ اپنی زندگی کو نیا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ مقدر مرنے تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور اُس کے سارے خواب ایک لمحے میں اُس وقت چکنا چور ہوجاتے ہیں جب ماضی کا دفن کیا ہوا ایک باب اچانک اُس کے سامنے پھن پھیلا کر کھڑا ہوجاتا ہے۔

Sixteen Blocks (2006)

پبلسٹی فوٹو

جیک موسلی (بروس ولز) جو ایک عمر رسیدہ، کاہل اور شراب کا عادی پولیس اہلکار ہے، کو ایک سرکاری گواہ کو پولیس اسٹیشن سے عدالت تک منتقلی کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے جو بظاہر تو ایک انتہائی آسان سا کام ہے لیکن اگلی منزل یعنی محض 16 بلاک کا فاصلہ کئی میل جتنا لمبا لگنے لگ جاتا ہے ۔ اس معمولی ذمہ داری کو تکمیل تک پہنچانے میں جیک موسلی کو اپنی اور گواہ کی زندگی بھی داؤ پر لگانی پڑ جاتی ہے اور انھیں مطلوبہ منزل سے زیادہ موت قریب لگنے لگتی ہے۔ فلم کی کہانی کافی سنسنی خیز اور ایکشن سے بھرپور ہے اور کوئی گمان بھی نہیں کرسکتا کہ ایک شرابی اور عمر رسیدہ پولیس افسر کس مہارت اور بہادری سے اپنا فرض سرانجام دے دیتا ہے۔

Contract Killers (2014)

پبلسٹی فوٹو

ایک نئے قاتل کو جب یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ دنیا کے خطرناک ترین قاتل کے نشانے پر ہے تب اُسے احساس ہوتا ہے کہ اُس کے پاس محض دو راستے ہیں یا تو وہ مر جائے یا اپنے شکاری کو ٹھکانے لگا دے۔

Standoff (2016)

اسکرین شاٹ

ایک شورش زدہ سابقہ پروفیشنل کو اپنی زندگی سے بیزاری ہونے لگتی ہے اور جب اُسی کی بندوق سے کھیلتے ہوئے اُس کے اکلوتے بیٹے کی گولی لگنے سے اچانک موت ہوجاتی ہے اور کچھ عرصے بعد اُس کی بیوی بھی اُسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ پھر ایک دن اُسے اپنی تلافی کا موقع ملتا ہے جب اُس کی چوکھٹ پر ایک 12 سالہ لڑکی اپنی جان بچانے پہنچتی ہے، جو اپنے خاندان کے قتل کی چشم دید گواہ ہے اور قاتل بندوق ہاتھ میں لیے اُسے بھی مارنے کے لیے محض چند قدم پیچھے ہے۔ تب وہ تجربے اور مہارت کی بدولت اپنی بندوق میں صرف چند کارتوس لیے دشمن کو نفسیاتی اور جسمانی جنگ میں مات دے دیتا ہے۔

Taken (2008)

پبلسٹی فوٹو

17 سالہ کِم اپنے سگے والد کی جان اور شان ہے۔ وہ اپنی سگی ماں اور سوتیلے باپ کے ساتھ رہتی ہے مگر پیرس کی سیر کے لیے اُسے اپنے سگے باپ کو مشکل سے منانا پڑتا ہے۔ وہاں پہنچ کر اُسے سہیلی سمیت اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اُس کی آزادی کا واحد راستہ اُس کا سگا باپ ہی ہے جو ایک سابقہ سی آئی اے ایجنٹ رہ چکا ہے۔ جان سے پیاری بیٹی کو اغوا کاروں سے آزاد کرانے کے لیے اُسے اپنی پرانی مہارت پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور یورپ کے سفر پر نکل پڑتا ہے۔ مذکورہ فلم کے دو مزید سیکوئل بھی ریلیز کیے گئے جو بہت پسند کیے گئے۔

Undisputed II (Last Man Standing) 2006

پبلسٹی فوٹو

اس عنوان پر اب تک 3 فلمیں بنائی گئی ہیں۔ یہ سیریز کی دوسری فلم ہے جبکہ چوتھی فلم پروڈکشن کے عمل سے گزر رہی ہے اور 2017 میں ریلیز ہوگی۔ اس فلم میں سابق باکسنگ چیمپئن (جارج ائیس مین چمیبرز) کو روس میں ایک جھوٹی سازش کے تحت جیل میں ڈال دیا جاتا ہے جہاں فرار صرف اس شرط پر ممکن ہے کہ اُسے جیل میں موجود فائٹنگ چیمپین (بوئیکا) کو شکست دینا ہوگا۔ فلم میں مرکزی کردار مارشل آرٹس ہیرو مائیکل جے وائیٹ نے ادا کیا ہے اور سکاٹ ایڈکنز نے اپنے اسٹنٹس کے جوہر دکھائے ہیں۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz