لاپتہ ہونے والے مصری مسافر جہاز کا معاملہ پُراسرار ہوگیا، ملنے والا ملبہ کس کا تھا؟ ایسا انکشاف کہ تفتیشی حکام چکرا کر رہ گئے

21 May 2016

قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصرکی فضائی کمپنی ایجپٹ ایئر کی لاپتہ ہونے والی پرواز ایم ایس 804 کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ بحیرہ روم میں گری اور غرق ہو گئی۔ گزشتہ روز مصری حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ بحیرہروم سے لاپتہ جہاز کے ملبے کے کچھ ٹکڑے ملے ہیں تاہم اب حکومت نے اپنا دعویٰ واپس لے لیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ٹکڑے ایم ایس 804کے نہیں ہیں۔دوسری طرف امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں بھی تاحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے اندازہ لگایا جا سکے کہ آخر اس بدقسمت طیارے کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا تھا۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق جہاز کو پیش آنے والے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے عالمی ماہرین مشترکہ کاوشیں کر رہے ہیں۔ایم ایس 804پیرس سے قاہرہ جا رہی تھی۔ 10میل تک مصری حدود میں آنے کے بعد اس کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ یونانی وزیردفاع پینوس کیمینوس کا کہنا ہے کہ ”ایئربس اے 320نے فضاءمیں اچانک کئی موڑ لیے۔ پہلے وہ بائیں طرف 90ڈگری کے زاوئیے پر اچانک مڑی اور پھر 360ڈگری پر دائیں طرف مڑ گئی۔اس کے بعد اس کی بلندی 37ہزار فٹ سے کم ہو کر اچانک 15ہزار فٹ ہو گئی اور یہ مسلسل کم ہو رہی تھی۔ جب طیارہ 10ہزار فٹ کی بلندی پر آیااس کا ریڈار سے رابطہ ختم ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ماہرین، وزراءاور فضائی حادثات کی تحقیقات کرنے والے سابق ماہرین ایک نکتے پر متفق ہیں کہ اب تک جتنے بھی شواہد ملے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ دہشت گردی کی واردات کا نشانہ بنا ہے۔تاہم امریکی حکام اس سے اتفاق نہیں کر رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ”ہمیں تاحال طیارے میں کوئی بم دھماکہ ہونے کے شواہد نہیں ملے۔“امریکی کانگریس میں کیلیفورنیا کے نمائندے ایڈم شیف کا کہنا ہے کہ ”ہم فرانسیسی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ حادثے کی وجوہات کو جان سکیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ طیارہ فضاءمیں ہی دو ٹکڑے ہو گیا تھا لیکن اس کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔“سول ایوی ایشن کے مصری وزیر شریف فادی کا کہنا ہے کہ جہاز کے تباہ ہونے میں تکنیکی خرابی کی نسبت دہشت گردی کی واردات کا امکان زیادہ نظر آتا ہے۔

Source. Daily Pakistan

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz