والد میرے لیے کیا اہمیت رکھتے ہیں؟

19 June 2016

آج دنیا بھر میں والد کا دن منایا جارہا ہے اور اس حوالے سے مختلف تقریبات وغیرہ کا انعقاد بھی ہورہا ہے، مگر کیا آپ واقعی اس ہستی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں؟

نیچے موجود تحریر شاید آپ کو مختلف عمروں میں باپ کی اہمیت کا احساس دلائے گی۔

جب میں چار سال کا تھا/تھی ” میرے والد کچھ بھی کرسکتے ہیں”۔

جب میں سات سال کا تھا/ تھی ” میرے والد بہت کچھ جانتے ہیں، ہاں واقعی بہت زیادہ”۔

کریٹیو کامنز فوٹو

جب میں 8 سال کا تھا/ تھی ” میرے والد سب کچھ نہیں جانتے”۔

جب میں 12 سال کا تھا/تھی ” اوہ یقیناً قدرتی طور پر والد اس بارے میں کچھ نہیں جانتے”۔

جب میں 14 سال کا تھا/تھی ” میرے والد؟ وہ مایوس کن حد تک قدامت پسند ہیں”۔

کریٹیو کامنز فوٹو

جب میں 21 سال کا تھا/تھی ” اوہ یہ شخص تو قدیم زمانے کا ہے، آپ اس سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟”

جب میں 25 سال کا تھا/تھی ” وہ بہت تھوڑا بہت تو جانتے ہیں مگر بہت زیادہ نہیں”۔

کریٹیو کامنز فوٹو

جب میں 30 سال کا تھا/ تھی ” شاید ہمیں جاکر معلوم کرنا چاہئے کہ میرے والد اس بارے میں کیا سوچتے ہیں”۔

جب میں 35 سال کا تھا/تھی ” کچھ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کچھ بھی کرنے سے پہلے والد سے مشورہ لے لینا چاہئے”۔

کریٹیو کامنز فوٹو

جب میں 50 سال کا تھا/ تھی ” میں حیران ہوں کہ میرے والد اس معاملے پر کیا سوچتے، وہ بہت زیادہ اسمارٹ شخص تھے”۔

جب میں 60 سال کا تھا/تھی ” میرے والد سب کچھ جانتے تھے”۔

کریٹیو کامنز فوٹو

جب میں 65 سال کا تھا/تھی ” میں اپنا سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوں اگر میرے والد یہاں آجائیں اور میں ان سے بات کرسکوں، میں انہیں بہت زیادہ مس کرتا/کرتی ہوں”۔

کریٹیو کامنز فوٹو

واضح رہے کہ امریکہ میں بیسویں صدی کے اوائل میں ماﺅں کے عالمی دن کی کامیابی کے بعد والد کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اس یوم کو منانے کا سلسلہ شروع ہوا تاہم اس کو عالمی سطح پر مقبولیت 1966ءمیں اس وقت ملنا شروع ہوئی جب امریکی صدر لنڈن جونسن نے جون کے تیسرے اتوار کو فارد ڈے قرار دیا جبکہ 1972ءمیں اسے امریکی قومی تعطیل قرار دیا گیا جس کے بعد سے ہر برس جون کا تیسرا اتوار دنیا کے اٹھاون ممالک میں فادرز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔

باقی ممالک یہ دن جنوری سے نومبر تک کی مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں۔

اگرچہ اس موقع پر والد کے ساتھ الفت ومحبت اور ان کی خدمت کے جذبے کو بڑھانے کے عزم کو بھی دہرایا جاتا ہے۔ لیکن جتنے جوش و خروش سے دنیا بھر میں مدرز ڈے منایا جاتا ہے،اور جس شدت سے بچے ماں کے دن کا انتظار کرتے ہیں اور جیسے تحائف اس دن اولاد کی جانب سے والدہ کو ملتے ہیں وہ انتظار ، ویسا جوش و خروش اور اًس طرح کے تحائف بہت کم باپوں کے حصے میں آتے ہیں، اس میں بھی بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیاں زیادہ محبت کا اظہار کرکے اس دن کو مناتی ہیں۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz