انار بڑھاپے کی روک تھام کے لیے اہم؟

13 July 2016

انار کا استعمال خلیات کے دوبارہ بننے کے عمل کو تیز کرکے بڑھاپے کی جانب سفر کو سست کردیتا ہے۔

یہ بات سوئٹزر لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایکول پولی ٹیکنیک فیڈرل ڈی لوزانے کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس پھل میں ایسا کیمیکل موجود ہے جو عمر بڑھنے کے اثرات جسم پر مرتب نہیں ہونے دیتا۔

یورولیتھیم اے نامی یہ کیمیکل یا مالیکیول خلیات کے ری سائیکل اور دوبارہ بننے کے عمل کو شروع کرتا ہے۔

تاہم تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ انسانوں کو اس کا فائدہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب ان کے معدے میں مناسب مقدار میں بیکٹریا موجود ہوں کیونکہ یہ ننھے جرثومے ہی پھل کے خام جز کو یورولیتھیم اے میں تبدیل کرتے ہیں۔

محققین نے اس مالیکیول کو چوہوں کی غذا میں شامل کیا تو معلوم ہوا کہ ان کی زندگی کی معیاد میں 45 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

اس وقت مختلف یورپی ممالک کے ہسپتالوں میں انسانوں پر بھی اس کے تجربات کیے جارہے ہیں۔

محققین کے مطابق ہمارا ماننا ہے کہ اس تحقیق کے ذریعے ہم نے بڑھاپے کی روک تھام کے حوالے سے ایک سنگ میل طے کیا ہے اور انسانی صحت کے لیے ایک بڑا موقع ہمارے سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ خلیات کی مرمت اور دوبارہ بننے کا عمل سست ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں متعدد اعضاءکی صحت متاثر ہوتی ہے جبکہ مسلز کمزور ہوجاتے ہیں۔

انار اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جو امراض قلب، سوجن، جوڑوں میں درد جیسے امراض کا خطرہ کم جبکہ یاداشت بہتر بناتا ہے۔

یہ نئی تحقیق طبی جریدے نیچر میڈیسین میں شائع ہوئی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Source. Dawn News

Leave a Reply

Be the First to Comment!


wpDiscuz